رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 14

14 رکھی ہوئی ہے۔میں نے سرمبارہ اٹھایا تو اس آیت وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ (المدثر : 32) کے الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے میں نے حضرت خلیفۃ المسیح علیہ الرحمہ کو اس کتاب کا نام بتایا آپ نے فرمایا کہ میں نے اس نام کی کوئی کتاب نہیں دیکھی۔میں نے بھی اس نام کی کتاب کی بڑی تلاش کی لیکن اب تک نہیں ملی شاید کبھی اللہ تعالی کے جنود کے ہی ذریعہ مل جائے وَمَاذَلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيز الفضل 30 - جولائی 1914ء صفحہ 6 $1908 19 فرمایا : میں نے اس خیال سے کہ اگر شیخ عبد القادر جیلانی کی کوئی کتاب اس نام کی ہو تو اسے تلاش کروں۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول سے پوچھا تو آپ نے فرمایا ان کی اس نام کی تو کوئی کتاب نہیں البتہ غنية الطالبین نام کی کتاب ہے پھر معلوم ہوا کہ اس نام کی کسی اور کی کتاب بھی نہیں ہے پھر خیال آیا کہ ممکن ہے کہ کسی وقت مجھے ہی اس نام کی کتاب لکھنے کی توفیق ملے اور عبد القادر سے مراد یہ ہو کہ اس میں جو کچھ لکھا جائے وہ میرے دماغ کا نتیجہ نہ ہو بلکہ خدا تعالٰی کی سمجھائی ہوئی باتیں ہوں اس وجہ سے میں نے اس مضمون کا نام منھاج الطالبیین رکھا ہے۔منهاج الطالبین ( تقریر جلسہ سالانہ 27 - دسمبر 1925ء) صفحہ 23 ( شائع کردہ الشرکتہ الاسلامیہ ربوہ۔اگست 1979ء) اس وقت مجھے یہی دکھایا گیا کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے فلاں قیمتی چیز کھو دی مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا اور کبھی انسان سمجھتا ہے مجھے کون تباہ کر سکتا ہے مگر وہ تباہ ہو جاتا ہے اسی طرح اب ہو گا۔محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ترقی حاصل ہوگی اور کوئی اس ترقی کو روک نہیں سکے گا اس کے دشمن تباہ و برباد ہو جائیں گے اور کوئی ان کو بچانہ سکے گا چنانچہ اسی طرح ہو گیا۔الفضل 17 جولائی 1928ء ( ضمیمہ صفحہ (113)۔مزید دیکھیں الفضل 3 ستمبر 1935ء صفحہ 8 غالباً 1908ء 20 فرمایا : تیرا الہام جو مجھے اس رنگ میں ہوا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد وہ یہ ہے کہ اِعْمَلُوالَ دَاوُدَ شُكراً ال داؤد تم اللہ تعالی کے شکر کے ساتھ اس کے احکام پر عمل کرو۔اس الہام کے ذریعہ