رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 174

174 اسے دیکھ کر انگریزی کا ایک فقرہ کہتا ہوں انگریزی زبان کو میں سمجھ لیتا ہوں مگر اس زبان میں مجھے بولنا اور لکھنا نہیں آتا۔میں اس وقت اس شخص کو انگلی مار کر کہتا ہوں۔There is nothing better for Thee to be brave than to be coward یعنی کوئی چیز تیرے لئے اس سے بہتر نہیں کہ تو بجائے بزدل بنے کے بہادر بنے صبح اٹھنے پر میں نے اپنی ایک بیوی کو جو گر یجوایٹ ہیں یہ فقرہ بتایا اور ان سے کہا کہ مجھے تو معلوم نہیں آپ بتائیں۔یہ فقرہ صحیح ہے یا نہیں۔وہ کہنے لگیں مجھے تو یہ فقرہ غلط معلوم ہوتا ہے پھر میں نے درد صاحب کو بتایا اور ان سے اس بارہ میں پوچھا تو انہوں نے کہا ” ہے تو کچھ کچھ ٹھیک" مولوی شیر علی صاحب سے میں نے پوچھا تو وہ کہنے لگے مجھے تو اس میں کوئی غلطی نظر نہیں آتی پھر میں نے ملک غلام فرید صاحب سے پوچھا۔انہوں نے بھی کہا کہ ٹھیک ہی معلوم ہوتا ہے۔میں نے کہا اس مضمون کا آپ کوئی فقرہ بنا ئیں چنانچہ انہوں نے فقرہ بنایا۔اس کا پہلا حصہ تو وہی ہے جو اس نقرہ کا ہے مگر دو سرے حصہ میں کچھ فرق ہے اس سے میں سمجھا کہ میں اس فقرہ کو بھولا نہیں کہ There is nothing better for Thee to be brave than to be coward اس فقرہ کے انگریزی میں ہونے کے شاید ایک معنے یہ بھی ہوں کہ انگریزی قوم سے اس بات کا تعلق ہو مگر بہر حال ہماری جماعت سے بھی اس کا تعلق معلوم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ اس خطرناک موقع پر دل چھوڑ کر بیٹھ جانا اور کمزوری دکھانا بالکل جائز نہیں بلکہ جتنا ہم بہادر بنیں گے اتنا ہی ہمارا انجام اچھا ہو گا۔انتقامی تقریر بر موقع مجلس مشاورت فرمودہ 5۔اپریل 1942ء صفحہ 7 C صفحه 9 ( غیر مطبوعہ) مئی 1942ء 243 فرمایا : میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یہ سلسلہ سب سے زیادہ خطرات میں گھرا ہوا ہے ہ اس تقریر کا مسودہ خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے (مرتب)