رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 13

13 ہے اتنا ہی گندہ ظاہر کرتا ہے۔الفضل 13- دسمبر 1914ء صفحہ 12۔نیز دیکھیں۔الفضل 27 - اپریل 1928ء صفحہ 2 ,3 - دسمبر 1935ء صفحہ 5و24 - مارچ 1937ء صفحہ 6 و یکم دسمبر 1954 ء صفحہ 4 اور ہستی باری تعالی ( تقریر جلسہ سالانہ 1921ء) صفحہ 113 اور تفسیر کبیر جلد پنجم حصہ دوم صفحه 200 1908 17 فرمایا : میں نے ایک دفعہ رویا دیکھا کہ بیت الدعا میں بیٹھا ہوں کہ ایک فرشتہ میرے سامنے آیا اور اس نے کہا۔میں تم کو ابراہیم جھاؤں میں نے کہا میں ابراہیم کو جانتا ہوں۔وہ کہنے لگا ایک ابراہیم نہیں کئی ابراہیم ہوئے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد اس نے کئی ابراہیم مجھے بتانے شروع کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت اس نے کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے پھر اس نے حضرت خلیفہ اول کے متعلق کہا کہ وہ بھی ابراہیم تھے اور آپ کا نام اس نے ابراہیم ادھم بتایا اسی طرح اور بیسیوں ابراہیم اس نے مجھ پر ظاہر کئے۔الفضل 9 - مئی 1940ء صفحہ 3 ” مجھے بتایا گیا کہ ایک ابراہیم تم بھی ہو "۔الفضل 7- مارچ 1944 ء صفحہ 3 ابراہیمی مشابہت کے لئے ضروری تھا کہ ہمیں بھی ہجرت کرنا پڑے چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔الفضل 10 جون 1959 ء صفحہ 4۔مزید دیکھیں۔الفضل 8 - جون 1945ء صفحہ 2 $1908 18 فرمایا : ایک دفعہ میں نے رویا ہو میں ایک چھوٹی سی کتاب ساٹھ ستر صفحے کی دیکھی۔اس کے اوپر منہاج السالکین لکھا ہوا تھا۔حضرت خلیفۃ المسیح مرحوم و مغفور اس کو پڑھ رہے تھے میں اور آپ نماز پڑھ کر ایک ہی مصلیٰ پر بیٹھے ہوئے تھے آپ نے وہ کتاب پڑھ کر مجھے دی اور فرمایا کہ پڑھ کر مجھے واپس دینا مجھے اس کتاب کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوا کہ گویا آپ ہی کی لکھی ہوئی ہے۔میں نے اس کو لے کر کسی جگہ رکھا۔تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے اس کو تلاش کیا تو معلوم ہوا کہ تم ہو گئی ہے۔میں نے بڑی تلاش کی۔آخر میرے دل میں خیال آیا کہ میرے سرہانے کہ یہ رویا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات سے پہلے کا ہے یا حضرت خلیفہ اول کے ابتدائی زمانہ کا ہے (مرتب)