رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 12

12 دیکھا تھا وہ بھی اسی مقام پر دلالت کرتا ہے۔میں نے دیکھا کہ میں اس کمرہ سے نکل رہا ہوں جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام رہتے تھے اور باہر صحن میں آیا ہوں وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف رکھتے ہیں اس وقت کوئی شخص یہ کہہ کر مجھے ایک پارسل دے گیا ہے کہ یہ کچھ تمہارے لئے ہیں اور کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ہے۔کشفی حالت میں جب میں اس پارسل پر لکھا ہوا پتہ دیکھتا ہوں تو وہاں بھی مجھے دو نام لکھے ہوئے نظر آتے ہیں اور پتہ اس طرح درج ہے کہ محی الدین اور معین الدین کو ملے۔میں کشف میں سمجھتا ہوں کہ ان میں سے ایک نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ر ہے اور دوسرا نام میرا ہے۔میں نے سمجھا کہ محی الدین سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں جنہوں نے دین کو زندہ کیا اور معین الدین سے مراد میں ہوں جس نے دین کی اعانت کی "۔الفضل 7 مارچ 16 31944 $1908 فرمایا ایک دفعہ میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک جگہ لیکچر دے رہا ہوں اور میرے ہاتھ میں شیشہ ہے۔لوگوں کو وہ شیشہ دکھا کر کہتا ہوں کہ یہ دل ہے جس طرح انسان شیشے کو اس لئے سنبھال کر رکھتا ہے کہ وہ صاف رہے اور شکل اچھی دکھا سکے اس لئے جب ذرا اس پر میل دیکھتے ہیں تو صاف کر دیتے ہیں کیونکہ جتنا شیشہ صاف ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ خوبصورت شکل نظر آتی ہے اور اگر شیشہ خراب ہو تو اچھی شکل بھی بری نظر آتی ہے۔بعض ایسے شیشے ہوتے ہیں جو کہ اصل شکل سے گھٹایا بڑھا کر دکھاتے ہیں اس لئے اعلیٰ درجہ کے شیشہ کی یہی تعریف ہوتی ہے کہ ہو بہو شکل دکھاتے ہیں۔بڑے بڑے قیمتی شیشے بعینہ اصل شکل ظاہر کرتے ہیں اور ذرا بھی فرق نہیں آنے پاتا۔اسی طرح اعلیٰ درجہ کا انسان وہ ہے جس کا دل اللہ تعالی کے جمال کو اصل شکل میں دکھائے۔انسان کا دل اللہ تعالیٰ کے جلوہ کو ظاہر کرنے کے لئے ایک شیشہ ہے اس لئے جس قدر یہ صاف ہوتا ہے اتنا ہی خدا تعالیٰ کی صفات کو اعلیٰ ظاہر کرتا ہے اور جس قدر گندہ ہوتا د حضور فرماتے ہیں کہ ” یہ غالباً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ کی بات ہے یا آپ کی وفات کے قریب کی یعنی چار پانچ ماہ کے اندر کی "الفضل یکم دسمبر 1954ء صفحہ 4