رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 142 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 142

142 کرتا جیسے پیٹھ کے پیچھے اگر بالکل قریب آکر بھی کوئی شخص بیٹھ جائے تو انسان معلوم نہیں کر سکتا کہ میرے پیچھے کوئی بیٹھا ہوا ہے لیکن اگر اس کا منہ اس کی طرف پھیر دیا جائے تو وہ دیکھ سکتا ہے کہ کوئی شخص میرے کتنے قریب بیٹھا ہوا ہے اسی طرح اللہ تعالٰی نے ٹنل کا نظارہ دکھا کر مجھ پر ظاہر فرمایا کہ اگر ہم پر وہ دور کر دیں تو تم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہو کہ ہم تمہارے کتنے قریب ہیں مگر چونکہ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان ایک پردہ پڑا ہوا ہے اس لئے اس بات کو سرسری نگاہ سے دیکھنے کے عادی ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کو محسوس نہیں کرتے۔الفضل 11۔نومبر 3۔1938 نیز دیکھیں۔الفضل 10 مئی 44 صفحہ 3 مارچ اپریل 1939ء 217 فرمایا : کچھ عرصہ ہوا اسی سفر (سفر سندھ۔ناقل ) میں مجھے خداتعالی کی ملاقات کے متعلق ایک عجیب رویا ہوا جس کا اثر میری طبیعت پر اب تک ہے۔میں نے دیکھا کہ دو پہاڑیاں ہیں جن میں ایک درہ ہے اور پہاڑیوں کے پرے بہت وسیع میدان ہے جو گو مجھے نظر نہیں آتا مگر میں اس درہ کی طرف جا رہا ہوں۔چاروں طرف اندھیرا ہے اور میں پہاڑیوں کے درمیانی رستوں پر سے گذر کر جا رہا ہوں۔میرے کانوں میں دور سے گونج کی آواز آرہی ہے میں نے اس کے قریب ہونے کی کوشش کی تو وہ گانے کی آواز معلوم ہوئی جیسے دور کوئی نہایت ہی شیریں آواز میں گا رہا ہو۔میرے قلب میں ایک بشاشت اور مسرت محسوس ہوئی اور میں نے اپنے قدم اور تیز کر دیے کہ دیکھوں کیا بات ہے۔جب میں کچھ اور قریب ہوا تو میں نے محسوس کیا کہ گویا کچھ لوگ شعر پڑھ رہے ہیں مگر ابھی وہ شعر سمجھ میں نہیں آئے میں اور قریب ہوا تو کوئی کوئی لفظ سمجھ میں آنے لگا۔نہایت سریلی آواز تھی اور یوں معلوم ہوا کہ کئی آدمی ہیں جو مل کر ایک ہی شعر پڑھ رہے ہیں اور آگے ہوا تو آواز اور واضح ہونے لگی اور جب میں نے پھر کان لگائے کہ سنوں کیا پڑھتے ہیں تو یکدم میرے منہ سے یہ فقرہ نکلا کہ یہ تو میرے شعر ہیں اور جب میں نے اور غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ میرے ایک پرانے شعر کا مصرعہ پڑھ رہے ہیں جو یہ ہے۔" زنہار میں نہ مانوں گا چہرہ دکھا مجھے "