رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 141
141 جانتے ہیں وہ انسان کی عقل کو حیرت میں ڈالنے والے ہیں۔الفضل 29۔جولائی 1938ء صفحہ 2 216 2 نومبر 1938ء فرمایا : دو دن ہوئے مجھے ایک عجیب کشفی نظارہ نظر آیا میں سحری کے انتظار میں لیٹا ہوا تھا کہ میں نے دیکھا جیسے پہاڑوں میں ٹنلز ہوتے ہیں اور ان میں بورنگ کر کے اندرونی طور پر ایک گول سا راستہ تیار کر لیا جاتا ہے اس طرح مجھے معلوم ہوا کہ جو میں ایک گول رستہ بنا ہوا ہے جو تاگے کی کسی ریل کے اندرونی سوراخ سے مشابہ ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ تاگے کی ریل کا سوراخ چھوٹا ہوتا ہے مگر وہ سوراخ بڑا تھا یا یوں سمجھ لو کہ جیسے آگ جلانے والی ٹھنکنی ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک گول سا سوراخ ہوتا ہے جس سے آر پار نظر آجاتا ہے اسی طرح جو میں ایک گول سا رستہ بنا ہوا ہے اور اس کے ایک طرف خدا تعالی کی ذات بیٹھی ہے اور دوسری طرف میں بیٹھا ہوا ہوں اور اس میں سے مجھے اللہ تعالیٰ کا اس قدر قرب معلوم ہوتا ہے کہ میرے اور اس کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے راز آپ ہی کھلتے چلے جا رہے ہیں اور اللہ تعالی کی ذات اتنی قطعی اور یقینی ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں اس کے مقابلہ میں مشکوک اور مشتبہ نظر آتی ہیں۔کئی منٹ تک برابر یہی کیفیت مجھ پر طاری رہی اور اس ٹنل کے ایک سرے پر بیٹھے ہوئے اللہ تعالیٰ سے جو اس کے دوسرے سرے پر بیٹھا تھا دل ہی دل میں میں باتیں کرتا رہا۔اس وقت کی کیفیت ایسی ہی تھی جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مقام پر لکھا ہے کہ سورج کی ذات میں شبہ ہو سکتا ہے زمین کے وجود میں شبہ ہو سکتا ہے اپنے وجود میں شبہ ہو سکتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات میں شبہ نہیں ہو سکتا۔اس قسم کی باتیں میں نے اس وقت اللہ تعالیٰ سے کہیں اور اللہ تعالیٰ سے مخاطب ہو کر کہا کہ تیرا وجود ایسا یقینی ہے اور ایسا شکوک کو دور کرنے والا پھر تو کیوں چھپا ہوا ہے اور کیوں میرے لئے اور اپنے دوسرے بندوں کے لئے کامل تجلی کے ساتھ ظاہر نہیں ہوتا۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں اس کشف کا مفہوم وہی تھا جو اللہ تعالٰی نے اس آیت میں بیان فرمایا تھا کہ وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِّى فَإِنّى قَرِيبٌ (البقرة : 187) کہ دیکھو رمضان میں اللہ تعالیٰ بندے کے کتنے قریب ہو جاتا ہے بہت دفعہ انسان غلطی سے اس قرب کو محسوس نہیں