رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 139
139 ہے اسے گرم دھہ دینا چاہئے تاکہ اوڑھ لے چنانچہ میں نے اسے اپنا گرم دصہ دیا جو بالکل خشک معلوم ہوتا ہے مگر تھوڑی دیر کے بعد میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس نے وہ دھہ اوڑھا ہوا نہیں۔میں اس سے دریافت کرتا ہوں کہ میں نے جو تمہیں دصہ دیا تھا وہ کہاں گیا تو وہ کہتی ہے کہ یہ ہندو عورت جو بیمار ہے اسے میں نے دیا ہے تاکہ یہ اوڑھ لے۔ظاہری شریعت کے لحاظ سے تو اس کا یہ فعل اچھا تھا مگر رویا میں مجھے اس کا یہ فعل اچھا معلوم نہیں ہوا اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا دھہ اس ہندو عورت کو نہیں دینا چاہئے۔اتنے میں میں دیکھتا ہوں کہ وہ عورت لیٹ گئی اور اس نے بیقراری ظاہر کرنی شروع کر دی جیسے گرمی لگی ہوئی ہوتی ہے اور خود بخود درحمہ پرے پھینک دیا میں نے دیکھا کہ وہ دھسہ آپ ہی نہ ہو گیا اور میں نے اٹھا کر اور کسی جگہ رکھ دیا اس عورت کے متعلق اس وقت یوں محسوس ہوا کہ یہ اب مرگئی ہے یا مرنے والی ہے اس وقت اس کے پاس اس کی ساس یا ماں جو بھی ہے آکر بیٹھ گئی ہے۔اتنے میں میں باہر آجاتا ہوں جہاں مجھے اپنی جماعت کے بہت سے دوست ملتے ہیں کچھ ہندو اور کچھ پیغامی بھی ہیں۔مولوی محمد علی صاحب اور مولوی صدرالدین صاحب مجھے خاص طور پر یاد ہیں اور ایک اور پیغامی بھی مجھے یاد ہے جس کے متعلق رویا میں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ وزیر آباد کا ہے اور اچھا تا جر ہے۔پھر میں نے ایک کو دیکھا کہ وہ کھڑا ہے اور اس کے پاس ایک گاڑی ہے جو اس گاڑی سے ذرا بڑی ہے جو بچوں کے لئے ہوتی ہے اور تین بکرے بھی کھڑے ہیں جن میں سے دو اس گاڑی میں جتے ہوئے ہیں مجھے خیال پڑتا ہے کہ اس جگہ میں نے بھائی عبد الرحمان صاحب قادیانی کو بھی جماعت کے لوگوں میں نے دیکھا جو لوگ وہاں کھڑے ہیں میں ان کو مخاطب کر کے کہتا ہوں کہ دیکھو یہ پانی کا طوفان میرے خواب کی بناء پر آیا ہے۔مجھے اس طوفان کی اللہ تعالٰی نے قبل از وقت خبر دی تھی اور مجھے رویا میں بکروں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے نظر آئے تھے اور انہوں نے مجھ سے بات کی تھی اور مجھے یہ سب نظارہ دکھایا گیا تھا اور بتایا گیا کہ پھر یہ طوفان ہٹ جائے گا اور سب سے پہلے میں روشنی دیکھوں گا۔میں نے جب یہ کہا کہ بکروں کی صورت میں خدا تعالیٰ کے فرشتے ظاہر ہو کر مجھ سے ہم کلام ہوئے تھے تو میں نے دیکھا کہ جس طرح کسی کی تقدیس اور بزرگی کا اعتراف کیا جاتا ہے اسی طرح ان بکروں میں سے جو وہاں تھے ایک نے میرے بازو پر اپنی تھوتھنی ملنی شروع کر دی گویا کہ وہ اظہار کرتا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں ٹھیک ہے اور گویا وہ برکت