رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 97
97 تھے جو وائسرائے ہند کے رشتہ دار تھے اس موقع پر سرولیم بھی آئے ہوئے تھے جو انگریزی فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف تھے ان کا ایک بھائی اس وقت بادشاہ انگلستان کا پرائیویٹ سیکرٹری تھا۔باتوں باتوں میں اس خواب کا ذکر آگیا جو میں نے اوپر بیان کی ہے تو سرولیم بے اختیار بول اٹھے کہ آپ کی رؤیا بالکل درست ہے اور میں اس کا گواہ ہوں۔میں ان دنوں اس فوج کا کمانڈر تھا جو پٹھانوں سے لڑ رہی تھی ایک دن پٹھان فوج ہمیں دھکیل کر اتنا پیچھے لے گئی کہ ہماری شکست میں کوئی شبہ نہ رہا اور ہمیں مرکز کی طرف سے یہ احکام موصول ہو گئے کہ فوجیں واپس لے آؤ۔چنانچہ ہم نے اپنا سامان ایک حد تک واپس بھی بھیج دیا تھا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ پٹھان فوج کو ہماری فوجی طاقت کے متعلق غلطی لگ گئی اور وہ آگے نہ بڑھی اگر وہ آگے بڑھتی تو افغان فوج ڈیرہ اسماعیل خاں تک ہمیں دھکیل کرلے آتی۔سرولیم نے بتایا کہ پٹھانوں کے جتھے ہمارے مقابلے پر آتے تو وہ مرتے چلے جاتے اور اس وقت تک یہ سلسلہ جاری رہتا جب تک کہ وہ اس علاقہ کو فتح کر لیتے آخر ہمیں حکم ہوا کہ فوجیں واپس لے آؤ۔الفضل 10۔جون 1959ء صفحہ 3-2 164 21 24-دسمبر 1929ء فرمایا : پچھلے ہفتہ دو دفعہ میں نے دو رویا دیکھے ہیں جن میں ایسے نظارے دکھائے گئے جو مخفی ابتلاء کا پتہ دیتے ہیں۔ایک رویا تو میں نے آج سے پانچ دن قبل دیکھا ایک پرسوں۔میں ان کی تشریح نہیں کرتا۔کیونکہ منذر رؤیا کا بیان کرنا بعض اوقات ان کے پورا کرنے کا موجب ہو جاتا ہے لیکن اتنا بتا دیتا ہوں کہ دوستوں کو توجہ دعا کی طرف ہو کہ ایک حملہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر کیا گیا اور ایک مجھے پر۔اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے مبرم تقدیر بھی مل جایا کرتی ہے احباب دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحم سے ہر قسم کی مشکلات دور فرمائے اور ہر قسم کے ابتلاؤں سے جماعت کو محفوظ رکھے تاکہ ہم عمدگی اور آسانی سے اس سلسلہ کی خدمت کر سکیں۔الفضل یکم جنوری 1931ء صفحہ 4