رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 96

96 اور ان کے دل میں بہت سے شکوک پیدا ہو گئے ہیں اور بعض دفعہ انہیں یہ بھی خیال آتا ہے کہ وہ قادیان سے چلے جائیں۔میں نے اس رویا میں ان کی دعوت کی اور انہیں نصیحت کی کہ ان باتوں کا نتیجہ اچھا نہیں اس سے ایمان بالکل جاتا رہے گا۔چنانچہ رویا میں انہوں نے اقرار کیا کہ ہاں واقعہ میں میرے دل میں وساوس پیدا ہو گئے تھے اور میں چاہتا تھا کہ قادیان سے چلا جاؤں۔یہ خواب بھی عجیب طور پر پورا ہوا۔چنانچہ احباب نے الفضل میں ایک دوست کا بیان پڑھا ہو گا جو انہوں نے افریقہ سے لکھ کر بھیجوایا کہ مصری صاحب نے ان کے سامنے یہ خواہش کی تھی کہ اگر میری لڑکی کی ملازمت کا وہاں کوئی انتظام ہو جائے تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں بھی افریقہ چلا جاؤں اور گو انہوں نے کہا تھا کہ دو سال کی چھٹی لے کر مگر بہر حال قادیان کو چھوڑ کر محض دنیوی اغراض کے لئے ایک لمبے عرصہ کے لئے انہوں نے جانے کا اظہار کیا۔باقی رہا وساوس کا حصہ اس کو وہ خود تسلیم کر چکے ہیں۔الفضل 20۔نومبر 1939ء صفحہ 6 ماسٹر غلام حیدر صاحب جو بورڈنگ مدرسہ احمدیہ کے سپرنٹنڈنٹ ہیں انہوں نے بتایا کہ مصری صاحب نے میرے سامنے ذکر کیا تھا کہ میرے دل میں واقعہ میں ایسے وساوس پیدا ہو گئے تھے کہ میں چاہتا تھا کہ قادیان سے چلا جاؤں مگر جب سے میں نے حضرت صاحب کی خواب سنی ہے ان وساوس کو دور کر کے اپنی اصلاح کرلی ہے۔الفضل 14 اگست 1964ء صفحہ 4 163 غالبا 1929ء فرمایا : ایک خواب دیکھی کہ ایک انگریز میرے پاس آیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ سرحد پر پٹھانوں کی طرف سے حملے ہو رہے ہیں اور بڑی سختی سے حملہ کرتے ہیں کیا اسلام میں یہ بات جائز ہے کہ اگر کوئی دشمن ہمارے کسی آدمی کو مارے اور اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے تو اس کے مقابلہ میں ان کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے۔میں نے کہا ہاں قرآن کریم میں وَجَزَاؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةُ (الشوریٰ : (41) آتا ہے یہ مسئلہ تو فقہی طرز کا تھا جو میں نے خواب میں بتایا لیکن خواب کا دوسرا حصہ نہایت اہم تھا۔مجھے خواب میں بتایا گیا کہ اگر انگریزوں نے اس محاذ پر چوٹی کے افسر نہ بھیجے تو انہیں شکست ہوگی۔اتفاق کی بات ہے کہ میں کچھ عرصہ کے بعد شملہ گیا وہاں گورنمنٹ آف انڈیا کے ہوم سیکرٹری نے مجھے چائے پر بلایا۔اس وقت مسٹر کر یر اہوم سیکرٹری