رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 623

رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 430

430 درمیان کا کمرہ ہے میں نے وہاں نظر کی تو دیکھا کہ وہاں ایک مجلس لگی ہوئی اور اس مجلس میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ علی گڑھ کالج کے کچھ لڑکے ہیں اور کچھ پر وفیسر ہیں جن میں کچھ ہندو بھی شامل ہیں۔ہندوؤں میں ایک موٹا تازہ بوس نامی شخص ہے وہاں کوئی میٹنگ ہو رہی ہے اور کوئی مشورے ہو رہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ میں نے دیکھا کہ اس جلسہ کی پریذیڈنٹ میری لڑکی عزیزہ امتہ القیوم سلمہا اللہ تعالیٰ ہے۔وہ جلسہ کی صدارت کر رہی ہے اور مختلف ممبر کھڑے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔اس خواب میں ایک لطیف اشارہ کیا گیا ہے کہ کس طرح جماعت قادیان کو دوبارہ اپنی تنظیم مکمل کرنی چاہئے اور اپنے کام کو وسیع کرنا چاہئے۔الفضل 25۔نومبر 1949ء صفحہ 4 جون 1949ء 480 فرمایا : میں نے دیکھا کہ امریکہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے میں انہیں ایک پیغام دے رہا ہوں اور پیغام یہ دیتا ہوں کہ امریکہ اور یورپ کے لوگ جو یہ کو شش کر رہے ہیں کہ دنیا میں امن قائم ہو اس میں وہ کامیاب نہیں ہوں گے نہ انکا طریق کار درست ہے اور نہ انکے اندروہ جذبہ اخلاص پایا جاتا ہے جس کے بغیر دل فتح نہیں ہو سکتے۔اس کام میں تو وہ جذبہ اور وہی صحیح کوشش کامیاب ہو سکتی ہے جو اسلامی اصول کے مطابق ہو اور خدا تعالی کی طرف سے کھڑے ہوئے لوگ اس کام کو کریں اس سلسلہ میں یہ کہتا ہوں کہ اس کام کو کامیاب بنانے کے لئے جس بات کی ضرورت ہے وہ تو یہ ہے کہ ا یہ مشرقی محبت یہ رنگ مومنانہ یعنی جو خلوص اور محبت ہم مشرقی لوگوں کے دلوں میں پائی جاتی ہے اور جو مادی اثرات کی سے مغربی لوگوں میں نہیں پائی جاتی اس سے یہ کام ہو سکتا ہے۔دوسرے اس کے لئے اسلامی تعلیم کی ضرورت ہے اور یہ چیزیں امریکہ اور یورپ کے لوگوں میں نہیں پائی جاتیں ہم میں پائی جاتی ہیں۔پس ہم اس کام میں کامیاب ہوں گے ، وہ نہیں ہوں گے۔الفضل 25۔نومبر 31949