رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 208
208 276 13 اپریل 1944ء فرمایا : آج میں نے ویسا ہی ایک رویا دیکھا جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک رویا ہے کہ خواب میں آپ نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم کو دیکھا اور ان سے کہا آپ میرے واسطے دعا کیا کریں کہ میری اتنی عمر ہو کہ سلسلہ کی تکمیل کے واسطے کافی وقت مل جائے۔اس کے جواب میں انہوں نے کہا تحصیلدار۔میں نے کہا۔یہ آپ غیر متعلق بات کرتے ہیں جس امر کے واسطے آپ کو دعا کے لئے کہا ہے آپ وہ دعا کریں تب انہوں نے دعا کے واسطے سینہ تک ہاتھ اٹھائے مگر اونچے نہ گئے اور کہا ” اکیس " میں نے کہا۔کھول کر بیان کرو مگر انہوں نے کچھ کھول کر بیان نہ کیا اور بار بار اکیس اکیس " کہتے رہے اور پھر چلے گئے ( تذکرہ صفحہ 527-528) میری ساری رؤیا تو نہیں مگر آج رات ایک لمبے عرصہ تک یہی رویا ذہن میں آکر بار بار یہ الفاظ جاری ہوتے رہے۔اکیس اکیس " الفضل 29۔اپریل 1944ء صفحہ 2 277 اپریل 1944ء فرمایا : میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک شہر میں ہوں غالبا وہ لاہور شہر ہے اور کسی دوائی کے لئے یا کوئی اور چیز لینے کے لئے میں ایک دکان پر گیا ہوں۔مجھے اب یہ یقینی طور پر یاد نہیں رہا کہ میں دوائی لینے کے لئے گیا ہوں یا کوئی اور چیز لینے کے لئے مگر خواب کے اگلے حصہ سے معلوم ہوتا ہے کہ میں دوائی لینے کے لئے ہی گیا ہوں جب میں وہاں پہنچا تو دکاندار میری بات سن کر ایک اور شخص کو میرے پاس لایا اور اسے میرے ساتھ انٹروڈیوس کرایا۔معلوم ہوتا ہے وہ شخص اس کا دوست ہے اور اس کی دکان پر اکثر جاتا رہتا ہے اور وہ بھی لاہور کا ہی رہنا والا ہے دکاندار نے مجھے اس شخص سے یہ کہہ کر انٹروڈیوس کرایا کہ یہ ڈاکٹر سید ممتاز حسین صاحب ایم بی بی ایس ہیں۔ایک منٹ کے بعد اس جگہ ایک اور نوجوان آیا جس کا عنفوان شباب معلوم ہوتا ہے گول چہرہ ہے سانولا رنگ ہے اور اس کی داڑھی کے چھوٹے چھوٹے بال نکلے ہوئے ہیں جیسے اس کی داڑھی ابھی نکل ہی رہی ہو یا جیسے ایک دو دن کوئی شیو نہ کرائے تو اس کے چہرہ پر چھوٹے چھوٹے بال نکل آتے ہیں اسی طرح اس کے چہرہ پر چھوٹے چھوٹے بال ہیں جب وہ اس دکان میں آیا تو دکاندار مجھے اس نوجوان کے متعلق کہتا ہے