رؤیا و کشوف سَیّدنا محمود — Page 188
شمال 188 برای سرمک جس پر میں لڑ رہا ہوں پہاڑی دامن کوہ کا علاقہ در میانی پک رہی ہیں جو آگے جاکر پر دو شاخوں میں تقسیم ہو جاتی ہے یاں پیلاری مشرق جب میں تھوڑی دور چلا تو مجھے وہ نشانات نظر آنے لگے جو پیشگوئی میں بیان کئے گئے تھے اور میں کہتا ہوں میں اسی راستے پر آگیا جو خدا تعالیٰ نے پیشگوئی میں بیان فرمایا تھا اس وقت رویا میں میں اس کی کچھ تو جیہہ بھی کرتا ہوں کہ میں درمیانی پگڈنڈی پر جو چلا ہوں تو اس کا کیا مطلب ہے چنانچہ جس وقت میری آنکھ کھلی معا مجھے خیال آیا کہ دایاں اور بایاں راستہ جو رویا میں دکھایا گیا ہے اس میں بائیں رستہ سے مرادہ خالص دنیوی کوششیں اور تدبیریں ہیں اور دائیں رستہ سے مراد خالص دینی طریق۔دعا اور عبادتیں وغیرہ ہیں۔اور اللہ تعالٰی نے مجھے بتایا ہے کہ ہماری جماعت کی ترقی درمیانی راستے پر چلنے سے ہوگی یعنی کچھ تدبیریں اور کوششیں ہوں گی اور کچھ دعائیں اور تقدیر میں ہوں گی اور پھر یہ بھی میرے ذہن میں آیا کہ دیکھو قرآن شریف نے امت محمدیہ کو اُمَّةً وَسَطًا قرار دیا ہے اس وسطی رستہ پر چلنے کے یہی معنے ہیں کہ یہ امت اسلام کا کامل نمونہ ہوگی اور چھوٹی پگڈنڈی کی یہ تعبیر ہے کہ راستہ گو درست راستہ ہے مگر اس میں مشکلات بھی ہوتی ہیں غرض اس راستہ پر چلنا شروع ہوا اور مجھے یوں معلوم ہوا کہ دشمن بہت پیچھے رہ گیا ہے اتنی دور کہ نہ اس کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ہے اور نہ اس کے آنے کا کوئی امکان پایا جاتا ہے مگر ساتھ ہی میرے ساتھیوں کے پیروں کی آہٹیں بھی کمزور ہوتی چلی جاتی ہیں اور وہ بھی بہت پیچھے رہ گئے ہیں مگر میں دوڑتا چلا جاتا ہوں اور زمین میرے پیروں کے نیچے سمٹتی چلی جا رہی ہے۔اس وقت میں کہتا ہوں کہ اس واقعہ کے متعلق جو پیشگوئی تھی اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس رستہ کے بعد پانی آئے گا اور اس پانی کو عبور کرنا بہت مشکل ہو گا اس وقت میں رستے پر