روشنی کا سفر — Page 59
آخری بار آپ دسمبر 1900ء میں قادیان آئے۔یہ وہ زمانہ تھا جب علماء نے جہاد کا خوب شور و غوغا بلند کر رکھا تھا اور جہاد کے نام پر انگریزوں کے قتل کا فتویٰ دے رکھا تھا۔خود افغانستان کے امیر عبدالرحمان نے اس سلسلے کو بہت ہوادی اور پشاور اور بنوں میں کئی انگریزوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔حضرت مولوی عبد الرحمان صاحب جہاد کے بارے میں حضرت اقدس مسیح موعود کے نکتہ نظر سے واقف تھے اور اسی مسلک کو صحیح خیال کرتے تھے اس لئے جب وہ کابل پہنچے تو انہوں نے جہاد کے غلط مسلک کی مخالفت کی اور جہاد کے نام پر معصوم لوگوں کے قتل عام کو غلط قرار دیا۔امیر کا بل کو جب آپ کے عقائد کی اطلاع ہوئی تو وہ سخت غضبناک ہوا اور آپ کی نظر بندی کا حکم دے دیا جس کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ کو گلا دبا کر شہید کر دیا گیا۔آپ جماعت احمدیہ کے سب سے پہلے شہید ہیں جنہوں نے اس راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔یہ 1901ء 1ء کے وسط کا واقعہ ہے۔اللہ تعالیٰ نے امیر عبدالرحمان کے اس ظلم کی پاداش میں اسے فوری طور پر عبرتناک سزا دی۔اسی سال یعنی ستمبر 1901ء میں امیر عبدالرحمان پر فالج کا شدید حملہ ہوا جس سے وہ مکمل طور پر معذور ہو گیا۔بہت علاج کئے گئے لیکن کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی اور ایک ماہ معذوری کی اذیت جھیلنے کے بعد 3 اکتوبر 1901ء کوامیر عبدالرحمان وفات پا گیا۔۶۱ - کتب حضرت اقدس کے امتحان کی تحریک ہم میں سے ہر ایک نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں تنظیمی پرچہ جات اور امتحانوں میں شرکت کی ہوگی۔لیکن شاید ہم میں سے بہت سے اس بات سے واقف نہیں ہیں کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی زندگی میں ہی یہ تحریک فرمائی تھی کہ ہر سال دسمبر کی تعطیلات میں حضور علیہ السلام کی کتابوں کا امتحان لیا جائے اور جو لوگ اس امتحان میں کامیاب ہوں ان کو سلسلہ کی تبلیغی خدمات پر مامور کیا جائے۔حضرت اقدس نے 9 ستمبر 1901ءکو مفید الاخیار' کے نام سے ایک اشتہار شائع فرمایا جس میں آپ نے اپنی اس دلی خواہش کا اظہار فر مایا کہ ہماری جماعت میں کم از کم ایک سواہل کمال و فضل ہونے چاہیں جو سلسلہ کے عقائد اور دلائل سے پوری طرح واقف اور آگاہ ہوں چنانچہ اسی غرض کے لئے آپ نے یہ تحریک فرمائی کہ ہر سال قادیان میں حضور کی کتابوں کا امتحان لیا جایا کرے۔پہلے امتحان کے لئے جو کورس تجویز کیا گیا وہ ان کتب پر مشتمل تھا۔فتح اسلام توضیح مرام ازالہ اوہام انجام تقتم ایام الصلح،