روشنی کا سفر — Page 17
ہوئی تھی اور حضور کی نیکی کا آپ کی طبیعت پر گہرا اثر تھا۔1884ء میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کو اپنی صاحبزادی حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ کے رشتے کی فکر پیدا ہوئی تو انہوں نے اس سلسلے میں حضرت اقدس کو بھی دعا کے لئے تحریر کیا۔حضور جو خدائی خوشخبریوں کے ماتحت کسی نیک اور بزرگ خاندان کے منتظر تھے آپ نے اس خط کے جواب میں حضرت میر ناصر نواب صاحب کو سب تفصیل لکھ کر اپنا رشتہ پیش کیا جسے حضرت میر ناصر نواب نے سوچ بچار اور اپنے گھر کے افراد سے مشورے کے بعد منظور کر لیا۔حضرت میر صاحب کی طرف سے رشتہ کی منظوری کی اطلاع ملنے کے قریباً8 دن کے بعد حضرت اقدس اپنے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحب اور ایک دو دیگر احباب کے ساتھ دہلی پہنچے اور 17 نومبر 1884 کو گیارہ صد روپے حق مہر پر آپ کا نکاح حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ (حضرت اماں جان کے ساتھ مولوی سید نذیر حسین دہلوی صاحب نے پڑھایا۔جس کے بعد رخصتانہ کی سادہ سی تقریب ہوئی اور اگلے روز حضور عازم قادیان ہوئے۔یوں یہ مبارک شادی بخیر وخوبی انجام پذیر ہوئی اور اللہ تعالیٰ کی پیش خبریوں کے مطابق اس شادی کے نتیجے میں ایک عالیشان خاندان کی بنیاد رکھی گئی۔اور اللہ تعالیٰ نے دین کی خدمت کرنے والے پاک وجود جماعت کو عطاء کئے۔چن لیا تو نے مجھے اپنے پہلے مسیحا کیلئے کرم ہے مرے جاناں تیرا ( در نمین) حضرت مسیح موعود کی مبشر اولاد ا۔حضرت صاحبزادی عصمت صاحبہ (ولادت مئی 1886ء۔وفات: جولائی 1891ء) ۲۔حضرت بشیر اوّل صاحب۔(ولادت : 7 اگست 1887ء۔وفات:4 نومبر 1888ء)۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب۔(ولادت : 12 جنوری 1889 - وفات 7-8 نومبر 1965ء) ۴۔حضرت صاحبزادی شوکت صاحبہ (ولادت : 1891ء۔وفات:1892) ۵۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (ولادت 20 اپریل 1893 ء وفات 2 ستمبر 1963ء)۔حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ( ولادت 24 مئی 1895ء۔وفات 26 دسمبر 1961ء)۔حضرت نواب مبارکه بیگم صاحبہ (ولادت : 2 مارچ 1897ء۔وفات: 23 مئی 1977ء)۔حضرت صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب ( ولادت 14 جون 1899 ء وفات:16 ستمبر 1907 )۔حضرت صاحبزادی امتہ النصیر صاحبہ (ولادت 28 جنوری 1903۔وفات : 3 دسمبر 1903 ) ۱۰۔حضرت صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ (ولادت 25 جون 1904۔وفات 6 مئی 1987 ء )