روشنی کا سفر

by Other Authors

Page 16 of 104

روشنی کا سفر — Page 16

اپنے مریدوں سے کہہ رکھا تھا کہ احادیث میں اس زمانے کے مامور کا حلیہ بتایا جا چکا ہے اس لئے اگر چہ میں نے آپ کو پہلے نہیں دیکھا لیکن میں خود پہچان لوں گا۔حضور پروگرام کے مطابق ریل کے ذریعے سے لدھیانہ پہنچے اور اہل شہر کی طرف سے آپ کا بے مثال استقبال کیا گیا۔زائرین کا ایک جم غفیر تھا جو آپ کو دیکھنے کیلئے سٹیشن پر موجود تھا حضرت صوفی احمد جان صاحب نے حضور کو دیکھتے ہی پہچان لیا اور اپنے مریدوں سے کہا کہ یہ حضرت اقدس ہیں۔حضور نے لدھیانہ میں تین چار روز قیام کیا اور علم و عرفان کی بارش برساتے ہوئے شہر کے لوگوں کی علمی اور روحانی پیاس کو دور کیا جسکے بعد آپ واپس قادیان تشریف لے آئے۔يتزوج ويولدله ۱۴۔حضور علیہ السلام کی دوسری شادی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی عمر ابھی پندرہ سال ہی تھی کہ آپ کے والد ماجد نے آپ کی شادی آپ کے سگے ماموں مرزا جمعیت بیگ صاحب کی صاحبزادی حرمت بی بی سے کر دی۔یہ آپ کی پہلی شادی تھی جس کے نتیجہ میں آپ کے ہاں دو فرزند حضرت مرزا سلطان احمد صاحب اور مرز افضل احمد صاحب پیدا ہوئے۔1881ء کے لگ بھگ حضرت اقدس کو دوسری شادی کے متعلق الہامات شروع ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو بار بار یہ تحریک کی گئی کہ اس شادی کے نتیجے میں ایک نیا خاندان تیار کیا جائے گا جو خدا تعالیٰ کی بشارتوں اور خوشخبریوں کا حامل ہوگا۔نیز اللہ تعالیٰ نے اس دوسری شادی کے تعلق میں ہر قسم کے سامان خود مہیا کرنے کا وعدہ بھی فرمایا۔آپ کو الہام ہوا۔ہر باید نو عروسے ساماں کنم ہماں را و آنچه مطلوب شما باشد عطات آن کریم یعنی جو کچھ دلہن کے لئے فراہم ہونا چاہئے وہ میں فراہم کروں گا اور تمہاری ہر ضرورت کو بھی خود پورا کروں گا۔“ چنانچہ ان سب الہامات کی روشنی میں حضرت اقدس علیہ السلام ایک ایسے نیک اور پاک خاندان کی تلاش میں تھے جوان ย الہامات کا مصداق بن سکے اور پھر اس اعلیٰ ترین منصب کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس خاندان کو منتخب کیا وہ دہلی کا ایک مشہور سید خاندان تھا جن کا نہیالی سلسلہ حضرت خواجہ میر در دمرحوم صاحب کے ساتھ ملتا تھا۔یہ حضرت میر ناصر نواب صاحب کا خاندان تھا جو اپنی ملازمت کے سلسلے میں پنجاب کے مختلف مقامات پر رہائش پذیر رہے تھے اور انہیں ایام میں ان کی واقفیت حضرت اقدس سے بھی