روشنی کا سفر — Page 15
ایک مبارک امر اس میں شامل کیا جائیگا۔الہام ہی میں اسے بیت الذکر کا نام بھی دیا گیا۔اور رویا میں آپ نے اس پر لا راد لفضلہ لکھا ہوا بھی دیکھا۔-۱۲۔مرزا غلام قادر صاحب کا وصال حضرت مسیح موعود کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب 1883ء میں وفات پاگئے۔ان کی وفات کا فوری سبب یہ بیان کیا جاتا ہے که بعض رشتہ داروں نے آپ کی جائیداد میں سے حصہ لینے کے لئے مقدمہ کر دیا۔مرزا غلام قادر صاحب کو چونکہ اس مقدمے میں اپنی کامیابی کا بھر پور یقین تھا اس لئے انہوں نے پیروی شروع کر دی۔حضرت مسیح موعود نے یہ حالات دیکھ کر انہیں اور خاندان کے دیگر افراد کو صاف صاف بتا دیا کہ اس مقدمے میں فتحیابی ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے اس کی پیروی سے رُک جانا چاہئے۔مرز اغلام قادر صاحب نے اس بات کو قبول نہ کیا بلکہ مقدمہ جاری رکھا۔ابتدائی عدالت سے ان کے حق میں فیصلہ بھی ہو گیا لیکن چیف کورٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دے دیا۔جب یہ خبر مرزا غلام قادر صاحب کو پہنچی تو وہ کانپتے ہوئے حضرت مسیح موعود کے پاس آئے اور دکھ کے ساتھ کہا کہ غلام احمد ! جو تم کہتے تھے وہی ہو گیا ہے۔“ یہ دھچکہ ان کے لئے اتنا شدید تھا کہ وہ بیمار پڑ گئے۔اور بالآخر یہی بیماری جان لیوا ثابت ہوئی اور مرز اغلام قادر صاحب 1883ء میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔جس روز آپ کی وفات ہوئی اسی روز صبح کے وقت حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا کہ جنازہ۔شام کے وقت مرزا غلام قادر صاحب فوت ہو گئے۔ان کی بیوی حرمت بی بی صاحب حضرت مسیح موعود کے ایک الہام’تائی آئی“ کے مطابق 1921ء میں احمدی ہو گئیں اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی جو رشتہ میں آپ تائی لگتی تھیں۔۱۳۔سفر لدھیانہ حضور کی معرکۃ الآراء کتاب براہین احمدیہ نے آپ کی شہرت میں بے پناہ اضافہ کر دیا تھا۔لوگ آپ کو دین کے ایک عوض راہنما کے طور پر دیکھ رہے تھے۔اور یہ کیفیت ہر ایک طرف تھی لیکن لدھیانہ کو یہ خصوصیت حاصل تھی کہ حضور کے عقیدت مندوں کی ایک جماعت یہاں قائم ہو چکی تھی اور ان کی طرف سے بار بار یہ اصرار کیا جاتا تھا کہ آپ لدھیانہ تشریف لائیں لیکن حضور اس وقت تک یہ سفر اختیار نہ کرنا چاہتے تھے جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بارے میں اجازت نہ مل جائے چنانچہ آپ باوجو دلوگوں کے اصرار کے 1884ء تک اس سفر کیلئے آمادہ نہ ہوئے۔1884ء میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سفر کی اجازت دے دی گئی اور آپ سفر کرنے کے لئے تیار ہو گئے اور اس کی اطلاع لدھیانہ بھجوادی گئی۔لدھیانہ کے مشہور بزرگ صوفی احمد جان صاحب نے