روشنی کا سفر — Page 6
پیش لفظ تاریکیاں بہت گہری ہو چکی تھیں۔ظلمتوں کے ایک طویل سلسلے کے بعد اب وہ وقت نزدیک تھا کہ سپیدہ سحر نمودار ہو۔کیونکہ صدیوں کے اندھیروں کو روشنی میں بدلنا چھوٹے چھوٹے چراغوں کے بس سے باہر تھا۔13 فروری 1835 ء کا تاریخی دن روشنی کا پیغام لے کر طلوع ہوا۔ایک ایسی روشنی جو تاریکیوں کو اجالوں میں اور ظلمتوں کو نور میں بدلنے کے لئے آئی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اس دور کے لئے ایک بہت بڑی نعمت اور انعام تھا جس کا فیض آج بھی جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گا۔ہم بہت خوش نصیب ہیں کہ ہم اس دور میں پیدا ہوئے جو ایک روشن دور کا آغاز اور ارتقاء ہے۔یہ نور بڑھ رہا ہے اور پھل پھول رہا ہے اور تمام عالم کو منور کرنے کے لئے آگے سے آگے بڑھتا چلا جارہا ہے۔سالوں کی دھوپ چھاؤں اور صدیوں کے سنگم اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ سلسلہ ہرلمحہ ہر آن آگے سے آگے بڑھتا جارہا ہے۔تاریکیوں کے علمبرداروں کی پیہم مہم جوئی کے باوجود ہر آنے والا دن اس روشنی کو بڑھا رہا ہے۔اور کوئی نہیں جو اس نور کا راستہ روک سکے۔اور روک بھی کیسے سکتا ہے کہ قدرت اور فطرت نے تاریکی کو یہ طاقت ہی نہیں دی کہ وہ نور پر غالب آ سکے۔اس کے مقدر میں تو نور کے آتے ہی بھاگ جانا لکھا ہے۔یہ سلسلہ واقعات ایک ادنی سی کوشش ہے اُن واقعات کی جھلکیاں پیش کرنے کی جو ہمارے آقا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں پیش آئے اور جنہوں نے حالات کا رخ موڑ کر رکھ دیا۔یہ کوشش ہے اپنی نئی نسل کو یہ بتانے کی کہ جس وجود کی طرف وہ منسوب ہوتے ہیں اس نے کس طرح مشکل حالات کے باوجود اپنے کام کو مکمل کیا وہ نہ تھکا نہ ماندہ ہوا بلکہ ہمیشہ قدم آگے سے آگے بڑھاتا چلا گیا۔یہ واقعات ہماری تاریخ ہیں۔ہماری بنیاد ہیں ہمارا سرمایہ ہیں۔اور بلاشبہ ہمیں ان پر فخر ہے۔اور ان سے محبت ہے۔اور سب سے بڑی بات جس پر خدا تعالیٰ کا بے انتہا شکر واجب ہے وہ یہ ہے کہ ہم کوئی ایسی قوم نہیں جنہیں صرف اپنے ماضی پر فخر ہو بلکہ نور کا وہ سلسلہ جو حضرت مسیح موعود کے وجود سے جاری ہوا ہے وہ آج خلافت احمدیہ کی صورت میں ہمارے ساتھ ہے اور یوں یہ روشنی ہمارے لئے دائمی ہو چکی ہے۔کتاب میں چونکہ اختصار لوظ تھا اس لئے عین ممکن ہے کہ بعض مقامات پر تشنگی کا احساس ہو۔ایسی صورت میں روحانی خزائن تاریخ احمدیت اور حیات طیبہ سے واقعات کی تفصیل ملاحظہ کی جاسکتی ہے کیونکہ بیشتر موادا نہی تین ذرائع سے ماخوذ ہے۔