ضیاءالحق — Page 317
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۷ ضیاءالحق تاریخ قسم سے ایک سال تک زندہ سالم رہا تو وہ اس کا روپیہ ہوگا ۔ اور پھر اس کے بعد یہ تمام قو میں مجھ کو جو سزا چاہیں دیں اگر مجھ کو تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کریں تو میں عذر نہیں کروں گا ۔ اور اگر دنیا کی سزاؤں میں سے مجھ کو وہ سزا دیں جو سخت تر سزا ہے تو میں انکار نہیں کروں گا اور خود میرے لئے اس سے زیادہ کوئی رسوائی نہیں ہوگی کہ میں ان کی قسم کے بعد جس کی میرے ہی الہام پر بنا ہے ﴿۷﴾ جھوٹا نکلوں ۔ پس اے یاوہ گو لوگو بد ذاتی کے منصوبوں کو چھوڑو اور کسی طرح آتھم صاحب کو اس بات پر راضی کرو تا راستبازوں کے حق میں وہ فیصلہ ہو جائے جو ہمیشہ سنت اللہ کے موافق ہوا کرتا ہے اور اگر صرف گالیاں دینا مطلب ہے تو ہم تمہارا منہ پکڑ نہیں سکتے ۔ اور نہ کچھ اس سے غرض ہے کیونکہ قدیم سے یہی سنت اللہ ہے کہ ہمیشہ نا بکار اور بدسرشت سیچوں کو گالیاں دیا کرتے ہیں اور ہر یک طرف سے دکھ دیا جاتا ہے اور آخر انجام ان کے لئے ہوتا ہے ۔ میں آج تم میں ظاہر نہیں ہوا بلکہ سولہ برس سے حق کی دعوت کر رہا ہوں تمہیں یہ بھی سمجھ نہیں کہ مفتری جلد ضائع ہو جاتا ہے اور خدا پر جھوٹ بولنے والا جھاگ کی طرح نابود کیا جاتا ہے جن کو لوگ اس صدی کے لئے سچے مجدد کہتے تھے وہ مدت ہوئی کہ مر گئے ہم اور جو ان کی نظر میں جھوٹا ہے ہی نوٹ: شیخ بٹالوی محمد حسین نے مولوی نواب صدیق حسن خان کو مجد دصدی چہار دہم ٹھہرایا تھا