ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 315 of 581

ضیاءالحق — Page 315

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۱۵ ضیاء الحق افعال اور اقوال اور حرکات سے پیدا کئے تمہیں اس امر کا ملزم کرتے ہیں کہ تم ضرور عظمت اسلامی سے ڈر کر اس شرط کو پورا کرنے والے ٹھہرے جو پیشگوئی میں درج تھی پھر اگر تم سے بہت ہی نرمی کریں اور فرض کے طور پر ثابت امر کو مشتبہ تصور کر لیں تب بھی اس اشتباہ کا دور کرنا جو تم نے اپنے ہاتھوں سے آپ پیدا کیا انصافا وقانوناً تمہارے ہی ذمہ ہے سو اس کا تصفیہ یوں ہے کہ اگر وہ خوف جس کا تمہیں خود اقرار ہے ۔ اسلام کی عظمت سے نہیں تھا بلکہ کسی اور وجہ سے تھا تو تم قسم کھا جاؤ اور اس قسم پر تمہیں چار ہزار روپیہ نقد ملے گا اور ایک سال گذرنے کے بعد اگر تم سالم رہ گئے تو وہ سب روپیہ تمہارا ہی ہو جائے گا لیکن اس نے ہر گز فتسم نہ کھائی۔ میں نے اس کو اس کے خدا کی بھی قسم دی مگر حق کی ہیبت کچھ ایسی دل پر بیٹھ گئی تھی کہ اس طرف منہ کرنا بھی اس کو موت کے برابر تھا میں نے اس پر یہ بھی ثابت کر دیا کہ عیسائی مذہب میں کسی نزاع کے فیصلہ کرنے کے لئے قسم کھانا منع نہیں بلکہ ضروری ہے مگر آتھم نے ذرہ توجہ نہ کی اب ایما نا سوچو کہ یہ امر تنقیح طلب جو سچی رائے ظاہر کرنے کا مدار تھا کس کے حق میں فیصلہ ہوا اور کون بھاگ گیا۔ اے مخالف لوگو ! کیا کوئی تم میں سے سوچنے والا نہیں ! کیا ایک بھی نہیں ؟ کیا کسی کو بھی خدا تعالیٰ کا خوف نہیں کیا کوئی بھی تم میں ایسا نہیں کہ جو سید ھے دل سے اس واقعہ میں غور کرے ۔ اس قدر افترا کیوں ہے کیوں دلوں پر ایسے پردے ہیں جو سیدھی بات سمجھ نہیں آتی ۔ اس نوٹ:۔ آتھم نے قسم کھا کر اس شبہ کو دور نہ کیا جو ڈرتے رہنے کے اقرار سے اس کی نسبت جم گیا تھا بلکہ قسم کھانے سے سخت گریز کر کے ایک اور شبہ اپنے پر قائم کر لیا۔ منہ