ضیاءالحق — Page 308
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۸ ضیاء الحق آیت يُعِيسَى إِنِّى مُتَوَفِّيكَ لے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِى سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاکسی صحابی سے بجز مار دینے کے کوئی اور معنے ثابت کرنے چاہیں تو ان کے لئے ہرگز ممکن نہیں۔ اگر چہ اس غم میں مرجائیں ۔ اسی وجہ سے امام ابن حزم اور امام مالک اور امام بخاری اور دوسرے بڑے بڑے اکابر کا یہی مذہب ہے کہ در حقیقت حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں۔ افسوس کہ جاہل مولویوں نے ناحق شور مچایا اور آخر حضرت عیسی کی موت ثابت ہی ہوئی جس کے ثبوت سے وہ ایسے نادم ہوئے کہ بس مر گئے ۔ وحی اللہ پر کم توجہ رکھنے سے یہ تمام مصیبتیں ان پر پڑیں ۔ مولویوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ خدا تعالیٰ نے آج سے سولہ برس پہلے الہام مندرجہ براہین احمدیہ میں اس عاجز کا نام عیسی رکھا ہے کیا انسان اتنا لمبا منصو بہ کر سکتا ہے کہ جو افتر اسولہ برس کے بعد کرنا تھا اس کی تمہید اتنی مدت پہلے ہی جمادی اور خدا نے بھی اس قدر لمبی مہلت دے دی جس کی دنیا میں جب 14 سے دنیا شروع ہوئی کوئی نظیر نہیں پائی جاتی۔ والسلام على من اتبع الهدی۔ نسبتی باید که وحی حق پُر از اشارات خداست گر تفهمد جاہلے حج دل رواست چشمہ فیض است وحی ایزدی لیکن آن فهمد که باشد مهتدی وحی قرآن راز ها دارد بسے فهمد کسے واجب آمد نسبت اندر دین نخست کار بے نسبت نمے آید درست آن سعیدے کش ابوبکر است نام نسبتے مے داشت با خیر الانام زیں نشد محتاج تفتیش دراز جان او بشناخت روئے پاک باز ہست فرقے در نظر یا اے سعید! آنچه بارون دید آن قاروں ندید بود بارون پاک و ایں کرمے پلید کے بماند با یزیدے بایزید ال عمران : ۵۶ ۲ المآئدة: ۱۱۸