ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 581

ضیاءالحق — Page 307

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۷ ضیاء الحق اس پر غالب ہو گئے اور ان کی حجت کو توڑ نہ سکا اور ظاہر نص کو چھوڑ کر کیوں ایک تاویل سے جہان کو تباہی اور فتنہ میں ڈال دیا تا کہ کسی طرح مسیح موعود بن جائے جس شخص کے ہاتھ میں زندہ کرنا ہو بلکہ اس کا معجزہ ہی احیاء موتی ہو اس پر کیا مشکل تھا کہ فی الفور ایلیا نبی کو زندہ کر کے یا آسمان سے اتار کر یہودیوں پر ظاہر الفاظ نص کے موافق اپنی حجت پوری کر دیتا مگر ایسے اعتراض وہی کرے گا جو اپنی جہالت سے دنیا میں دوبارہ مردوں کے آنے کا قائل ہوگا۔ ہمارے اس وقت کے نام کے مولوی جو رجما بالغیب کہتے ہیں جو شاید ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کا قصہ محرف ہو یہ سراسر ان کی خیانت ہے۔ جس قصہ کی حضرت عیسی نے تصدیق کی۔ اور تمام یہودیوں کا اس پر اتفاق ہے وہ کیونکر محرف ہو سکتا ہے اور پھر بطریق تنزل ہم کہتے ہیں کہ اللہ اور رسول نے اس کی تعریف کی ہم کو خبر نہیں دی۔ لہذا ہم بموجب حدیث صحیح کے تکذیب کرنے کے مجاز نہیں ہیں اگر لَا تُصَدِّقُوا پر نظر ہے تو لَا تُكَذِّبُوا بھی ساتھ یا درکھو لیکن اس قصہ میں تو ہمارے مولویوں کو یہ دھڑ کہ شروع ہوا۔ کہ اگر حضرت عیسی کی اس تاویل کو تسلیم کر لیں اور قصہ کو صحیح سمجھیں تو پھر حضرت عیسی علیہ السلام کے دوبارہ آنے سے بھی ہاتھ دھو لینا چاہیے۔ جب ایک مرتبہ فیصلہ ہو چکا تو وہی مقدمہ پھر اٹھانا یہودی بن جانا ہے۔ مومن وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے حال سے عبرت پکڑے ۔ اگر نزول کا لفظ احادیث میں موجود ہے تو موت عیسی کے الفاظ قرآن اور حدیث دونوں میں (۴۴ موجود ہیں اور توفی کے معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے بجز مار دینے کے اور ثابت نہیں ہوئے ۔ پس جب اصل مسئلہ کی حقیقت یہ کھلی تو نزول اس کی فرع ہے اس کے وہی معنے کرنے چاہئیں جو اصل کے مطابق ہوں ۔ اگر تمام دنیا کے مولوی متفق ہو کر