ضیاءالحق — Page 300
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۰۰ ضیاءالحق جاں بحق ہوا ۔ اور مرتے وقت وہ ایک پادری صاحب کی ہدایت سے تائب ہوا۔ اور حضرت مسیح کی خدائی کا قائل ہو کر مرا اور اپنی مخالفانہ کتابیں جلا دیں اور تو بہ کر کے بہت رویا اور قائل ہوا کہ اب میں سمجھا کہ در حقیقت حضرت مسیح خدا ہی ہیں !!! حالانکہ نہ اس کو کوئی ریل کا صدمہ پہنچا اور نہ وہ مرا نہ تو بہ کی نہ کتابیں جلائیں نہ حضرت مسیح کی خدائی کا قائل ہوا بلکہ زندہ موجود اور اب تک تثلیث کا دشمن ہے۔ ناحق ایک بدذات عیسائی نے اس بے چارہ کے عیال اور دوستوں کو مصیبت میں ڈالا ۔ افسوس کہ ہمارے بخیل طبع مولویوں کو یہ خیال نہ آیا کہ یہ آتھم بھی اسی دروغ باف قوم میں سے ہے۔ اور یہ وہی نا پاک طبع ہے جس نے پہلے اس سے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ اپنی کتاب میں دجال کے نام سے موسوم کیا لَعْنَتُ الله على قائله إلى يَوْمِ القِيَامَة پھر اس کے بے ثبوت ہذیان کو باور کرنے والا بھی دجال سے کم نہیں ۔ کیا عقلا اور انصافاً اس پر یہ الزام قائم نہیں ہوا کہ وہ میعاد پیشگوئی میں اپنے ڈرنے کا اقرار کر کے پھر ان بے ہودہ جعلسازیوں کا ثبوت نہیں دے سکا کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے نہیں بلکہ سانپ وغیرہ کے حملوں کی وجہ سے ڈرتا رہا۔ وہ ان باتوں کو بذریعہ نالش ثابت نہ کر سکا۔ جوڈر کی بنیاد اس نے قائم کی تھی یعنی تین حملے ۔ اور اس نے یہ بھی نہ چاہا کہ قسم کھا کر اپنی صفائی کرے اور جب اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے عذرات کے پیش ہونے پر کیوں نہ یہ سمجھا جائے کہ یہ تین حملوں کا منصوبہ محض اسی غرض سے گھڑا گیا ہے کہ تا اس خوف اور جزع فزع کی کچھ پردہ پوشی کی جائے جس سے آتھم خواب سے بھی چیچنیں مار کر اٹھتا رہا ہے اور امرتسر کے مقام میں بھی بیماری کی شدت میں اس نے ایک چیخ ماری اور کہا کہ ہائے میں پکڑا گیا تو ان باتوں کا کوئی جواب اس