ضیاءالحق — Page 299
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۹ ضیاء الحق ڈالیں اور خدا تعالیٰ پر بھی افترا کرنے سے نہ ڈرے۔ ابھی حال میں ایک نئی انجیل کسی بزرگ عیسائی نے تبت کے ملک سے برآمد کی ہے جس کی بہت جوش سے خریداری ہو رہی ہے اور ان میں سے ایک بڑے مقدس کا یہ قول ہے کہ دین کی ترقی اور حمایت کے لئے جھوٹ بولنا نہ صرف جائز بلکہ ذریعہ نجات ہے اس قوم کا جھوٹ سے پیار کرنا اپریل فول کی رسم سے بھی ثابت ہوتا ہے ۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر اپریل کی تحریروں اور اخباروں میں خلاف واقعہ باتیں اور خلاف قیاس امور شائع کئے جائیں تو کچھ مضائقہ نہیں ۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ غالبا بہت سا حصہ انجیل کا اپریل میں ہی لکھا گیا ہے اور یقیناً تثلیث کے مسئلہ کی جڑ بھی یہی مہینہ ہے جس میں بے دھڑک جھوٹ بولا جاتا ہے اور خلاف قیاس با تیں شائع کی جاتی ہیں ۔ غرض ان لوگوں کے نزدیک کسی ضرورت کے وقت جھوٹ کا استعمال کرنا کچھ کراہت کی بات نہیں ، جب دیکھتے ہیں کہ کوئی پردہ دری ہونے لگی ہے تو فی الفور جھوٹ سے کام لیتے ہیں ۔ عَبْدُ الْمَسِیح اور عبد الله هاشمی کا کیسا جھوٹا قصہ بنا لیا۔ کیا ھارون اور مامون کے وقت میں پروٹسٹنٹ کا نام ونشان بھی تھا جس کی تائید میں دو فرضی شخصوں کا عربی زبان میں مباحثہ لکھا گیا۔ پس جو لوگ کلوں کی ایجاد کی طرح آئے دن نئے نئے جھوٹ بھی ایجاد کرتے رہتے ہیں۔ وہ کسی بیچ میں پھنس کر کیوں جھوٹ نہیں بولیں گے۔ یہ ایک ثابت شدہ امر ہے کہ ناحق جھوٹ بول دینا انہی لوگوں کا خاصہ ہے۔ دیکھونور افشاں (۳۸) ۲۵ جنوری ۱۸۹۵ء کے پرچہ میں بے چارہ اَکبَرُ مَسیح کو عناد ندہی کی وجہ سے زنده در گور کر دیا۔ چنانچہ مذکورہ میں چھپ گیا کہ اکبر مسیح تثلیث کا دشمن ریل کے صدمہ سے