ضیاءالحق — Page 297
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۷ ضیاء الحق لینے اور مجرموں کے پکڑنے سے مانع ہوئی ۔ اس لئے اس مرتبہ بھی اس نے اپنے خونی دشمنوں کو عمداً چھوڑ دیا اور کہا کہ چلو ان سے تو ہوا مگر ہم سے نہ ہولیکن بدذات دشمنوں ۳۶) نے پھر بھی پیچھا نہ چھوڑا اور اس بوڑھے نیک بخت محسن کی اتنی بڑی نیکی کا ذرہ بھی پاس نہ کیا بلکہ جب یہ فیروز پور چھاؤنی میں گیا تو وہاں بھی سایہ کی طرح اس کے پیچھے پیچھے پہنچ گئے اور جان ستانی کے لئے تلواروں کے ساتھ احاطہ کوٹھی میں جا موجود ہوئے مگر چونکہ وہ بوڑھا نہایت ہی پاک دل کم آزار اور پوری تصویر پولس رسول کی اپنے اندر رکھتا تھا اس لئے اس نے اب کی دفعہ بھی نہ پکڑا! اور نہ پولس کے لوگوں کو پکڑنے دیا اور کہا کہ میں مسلمانوں کی طرح نہیں میں بدی کے عوض ہرگز بدی نہ کروں گا اور وہ او باش بھی کیسے خوش قسمت کہ اس مجرمانہ حالت میں کسی بازاری آدمی اور رہگذر نے بھی ان کو آتے جاتے ہتھیاروں کے ساتھ نہ دیکھا اور آتھم صاحب وہ عالی حوصلہ کہ یہ تو برکنار کہ گورنمنٹ میں ان خونی دشمنوں کی اطلاع دیتے یا عدالت فوجداری میں با ضابطہ نالش کر کے اس عاجز کا مچلکہ لکھواتے انہوں نے تو میعاد پیشگوئی میں اخباروں میں بھی یہ مضمون نہیں چھپوایا کہ شاید یہ بھی گناہ میں داخل نہ ہو۔ اے حضرات مولویو! اور اخبار نویسو کیا آپ کا یہ گمان ہے کہ یہ مرتدین متضرین کا فرقہ ایسا ہی نیک بخت ہے اور ایسے ہی دیانت دار ہیں کہ کبھی جھوٹ منہ سے نہیں نکلتا اور نہیں جانتے کہ مکر اور منصو بہ بازی کیا شے ہے ۔ اور چھل ، فریب اور جعل کس کو کہتے ہیں ۔ مگر میں جانتا ہوں کہ تمام دیا نتیں شعبہ ایمان ہیں ۔ جن لوگوں نے پیسہ پیسہ کے لئے یا عورتوں کی خواہش سے اپنا دین بیچ ڈالا اور اسلام سے باہر نکل کر راست بازی کے چشمہ کی تو ہین کی