ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 291 of 581

ضیاءالحق — Page 291

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۱ ضیاءالحق خون کر رہے ہیں یہ خوب جانتے ہیں کہ آتھم اس اقرار کے بعد کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے نہیں ڈرا بلکہ ہماری جماعت کے حملوں سے ڈرا قانونی اور شرعی طور پر اس مواخذہ کے قابل ٹھہر گیا تھا کہ اپنے اس دعویٰ کو یا تو نالش کے ذریعہ سے ثابت کرتا یا شہادتوں سے ۔ اور یا بالآ خر قسم کھا کر اپنی صفائی ظاہر کرتا ۔ پھر جبکہ اس نے خوف کا اقرار کئی دفعہ رو رو کر کیا مگر تین حملوں کا ثبوت کچھ بھی نہ دے سکا تو کیا اب تک ان کی نظر میں آتھم بری الذمہ اور پاک دامن رہا۔ کیا ان کے دل قبول کرتے ہیں کہ ہماری جماعت ہتھیار باندھ کر تین دفعہ آتھم کے قتل کرنے کے لئے گئی تھی ۔ کیا ان کا کانشنس اس بات کو صحیح سمجھتا ہے کہ ہم نے آتھم پر ایک تعلیم یافتہ سانپ چھوڑا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ ہرگز ان کا دل یقین نہیں کرتا ہوگا ۔ گو یہ تو امید نہیں کہ منہ کی بک بک مرتے دم تک بھی چھوڑیں مگر ان کا دل ضرور ان باتوں کو جھوٹا منصو بہ سمجھے گا کیونکہ اس قدر نا پاک جھوٹ خبیث سے خبیث انسان قبول نہیں کر سکتا ۔ تو اب جب خوف کا اقرار موجود اور وجوہات پیش کردہ آتھم کے باطل ٹھہرے تو ایسے وقت میں تو ہمارے مخالف مولویوں کی ایمانداری کو بھی ذرہ ترازو میں رکھ کر کر وزن کر لو کہ ایک عیسائی کے بدیہی جھوٹ کو سچے کر کے ظاہر کرنا اور پادریوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملانا اور اسلام کا دعویٰ کر کے نصرانیت کا حامی ہونا (۳۲) کیا یہ نیک بختوں کا کام ہے ۔ یا ان کا جو آخری زمانہ کے دین فروش ہیں ۔ اے شریر مولویو! اور ان کے چیلو اور غزنی کے نا پاک سکھو ! تمہاری حالت پر افسوس اگر تم اس سے پہلے مر جاتے تو کیا اچھا ہوتا ۔ مسلمانوں کو تم نے کا فر بنایا ! عیسائیوں کو تم نے سچا ٹھہرایا اور پادریوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائی ۔ اور آخر ہر ایک بات میں جھوٹے اور روسیہ