ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 290 of 581

ضیاءالحق — Page 290

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۹۰ ضياء الحق کرنے کو اس پر حملہ آور ہوتے تو ان دونوں کو دکھلا دیتا تا کہ اس کمبخت فرقہ کا ایمان عیسائیوں کی حمایت میں مفت ضائع نہ جاتا ۔ اور فخر کے ساتھ ایسے منحوس مکانوں میں بیٹھ کر قسم کے ساتھ کہہ سکتے کہ در حقیقت اس شخص مکار یعنی اس عاجز نے اسلام کو سیکی اور شکست دلائی ۔ اور ہم بچشم خود دیکھ آئے ہیں کہ ایک تعلیم یا فتہ سانپ جو ان کی جماعت نے چھوڑا تھا آ ھم کو کاٹنے کے لئے بے شک اس کی کوٹھی (۳۱) میں گھس گیا تھا۔ اگر ہم نہ ہوتے تو ضرور وہ اس کو نگل ہی تو جاتا ۔ ہم نے نیم عیسائیت کے لحاظ سے بر اور آتھم کو بچا لیا تا کچھ تو برادری کا حق ادا ہو ۔ پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ مولوی حکیم نور الدین اور مولوی سید محمد احسن امروہوی اور حکیم فضل الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ سوداگر اور منشی غلام قادر صاحب اور مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی اور حاجی سیٹھ عبد الرحمان صاحب تا جر مدراس اور مولوی حسن علی صاحب بھاگلپوری اور میر مردان علی صاحب حیدر آبادی اور ایسے ہی اور بہت سے مردان کار زار اس جماعت کے نیزے ہاتھوں میں لئے ہوئے اور تلوار میں حمائل کئے ہوئے آتھم کی کوٹھی پر موجود تھے ۔ اور نہ ایک دفعہ بلکہ تین دفعہ ان مسلح سواروں کا آتھم پر حملہ آور ہوا ۔ آتھم بے چارہ ان حملوں سے ڈرتا اور بھاگتا رہا اور خوف کے مارے انھم ہو گیا جو کسی جگہ تھم نہ سکا۔ اگر مولوی ایسا کرتے تو بے شک ان کی گواہی کے بعد آتھم کا کام کچھ بن جاتا ۔ مگر افسوس کہ اب ان بد بخت دین فروشوں کا مفت میں ایمان بھی گیا اور آتھم بھی وہی خسر الدنيا والآخرة رہا۔ غضب کی بات ہے کہ یہ لوگ اس طرح صداقت کا