ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 581

ضیاءالحق — Page 288

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۸۸ ضیاء الحق سنا ہے کہ بعض اس کے دوستوں نے بھی کہا کہ غلبہ خوف کی وجہ سے کچھ اپنے ہی خیالات نظر آئے ہوں گے جو سانپ یا سواروں یا پیادوں کی شکل پر دکھائی دیے۔ ور نہ تین مرتبه تین مختلف مقاموں میں نظر آنا اور پکڑا نہ جانا بلکہ کچھ بھی پتہ نہ لگنا اور پھر ہر دفعہ صرف آتھم کا ہی مشاہدہ ہونا ۔ ایک ایسا امر ہے جس کو عقل سلیم تجویز نہیں کر سکتی۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو ان کے بعض ہم مذہب اور گھر کے بھیدی ہی اپنی مجالس میں ذکر کرتے اور آتھم صاحب کے خوفوں کو ہنسی ٹھٹھے میں اڑاتے ہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اور بعض خبریں فیروز پور کی ایک میم کی روایت سے مشہور ہوئیں اور لاہور میں پھیل گئیں لیکن اس وقت ہم ناظرین کے سامنے صرف یہ پیش کرنا چاہتے ہیں کہ آتھم نے اپنا خوف زدہ ہونا بیان کر کے بلکہ اپنے افعال اور حرکات سے اپنی سراسیمگی دکھلا کر پھر یہ ثابت نہ کیا۔ کہ وہ تین حملے جن کی رو سے وہ اپنا ڈرنا بیان کرتے ہیں کبھی ہماری طرف سے ان پر ہوئے بھی تھے؟ اور جب وہ ثابت نہ کر سکے بلکہ یہ بھی ثابت نہ کر سکے کہ ایسی بد چلنی کی پلید عادات کبھی پہلے اس سے بھی ہم سے ظہور میں آئے تھے۔ تو وہ ڈرنا پیشگوئی کے اثر کی طرف منسوب ہوگا کیونکہ پیشگوئی جس قوت اور شدت کے ساتھ کی گئی تھی عیسائی ایمان جو ایک مخلوق کو خدا بنا تا ہے ہرگز اس کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا ۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ وہ پیشگوئی کی عظمت سے ہی ڈرا۔ اور ہماری جماعت میں سے کوئی نیزہ باز اور تیغ کش اس کی کوٹھی پر ہرگز نہیں پہنچا۔ پس چونکہ ڈرنا خود اس کے اقرار اور قول اور فعل سے ثابت اور ایسی شدید الرعب پیشگوئی سے کسی مشرک مخلوق پرست کا ڈرنا قرین قیاس بھی ہے تو یہ عذر کہ ہماری جماعت کے تین حملے نیزوں تلواروں سانپوں کے ساتھ اس پر ہوئے سراسر دروغ بے فروغ