ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 581

ضیاءالحق — Page 275

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۵ ضیاءالحق کی میعاد میں ڈرتا رہا۔ اور پھر سوچیں کہ جس پیشگوئی کو بے ہودہ سمجھا گیا تھا اس سے اس قدر ڈرنا کیا معنی رکھتا تھا ۔ بہتیری بے ہودہ باتیں انسان سنتا ہے مگر ان کی کچھ بھی پرواہ نہیں کرتا ۔ پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ امرتسر میں کسی تعلیم یافتہ سانپ نے اس پر حملہ کیا تھا تو اس قدر بے حواسی اور سراسیمگی دکھلانا اور شہر بشہر پھر نا کیا ضروری تھا ۔ کوئی قانونی تدبیر کی ہوتی جس سے امن کے ساتھ امرتسر میں بیٹھے رہتے کیا امرتسر کی پولیس نا کافی تھی یا تمام قانونی علاج مسدود تھے جو اس قدر خرچ اخراج کر کے شدت دھوپ کے دنوں میں پیرانہ سالی میں اپنے آرام گاہ کو چھوڑا اور لطف یہ کہ وہ چھوڑنا بھی بے سود رہا ۔ امرتسر میں سانپ نظر آیا ۔ لدھیانہ میں نیزوں والے دکھائی دیئے۔ فیروز پور میں تلوار کے ساتھ حملہ ہوا یہ بیانات بہت ہی غور کے لائق ہیں ۔ ناظرین ان تین حملوں کو سرسری نظر سے نہ دیکھیں اور خوب سوچیں ۔ کیا فی الحقیقت سچ ہے کہ پہلا نظر آنے والا فی الحقیقت ایک تعلیم یافتہ سانپ تھا جس پر کسی کا سوٹا چل نہ سکا۔ اور وہ پچھلی مرتبوں میں جو نظر آئے وہ جنگ آزمودہ ہماری جماعت کے سپاہی تھے جن کو کسی موقع پر آتھم صاحب پکڑ نہ سکے اور نہ ان کے دامادوں کا ان پر ہاتھ دراز ہو سکا نہ پولس کے نالائق کانسٹیبل ان کے مقابلہ کی جرات کر سکے۔ پھر عجیب پر عجیب یہ کہ یہ لوگ نا جائز ہتھیاروں کے ساتھ کئی مرتبہ ریل پر سوار ہوئے ۔ بازاروں میں ہو کر نکلے آتھم صاحب کے احاطہ میں اِدھر اُدھر پھرتے رہے مگر بجز آتھم صاحب کے کوئی بھی ان کو دیکھ نہ سکا ۔ کیا ان تمام قرینوں سے ثابت نہیں ہوتا کہ در حقیقت یہ تمام روحانی نظارہ تھا جس نے آتھم صاحب کے دل کو ۲۱ کے