ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 274 of 581

ضیاءالحق — Page 274

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۴ ضیاءالحق اور طرفہ تر یہ کہ آتھم صاحب کا دو مرتبہ عدالت میں قسم کھانا ثابت ہو چکا ہے اگر وہ انکار کریں تو ہم نقل لے کر دکھلا وہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان عیسائیوں میں سے شاید شاذ و نادر کوئی ایسا ہو جس کو قتسم کھانے کا اتفاق نہ ہوا ہو بلکہ انگریزی قانون نے قسم کھانا عیسائیوں کے لئے خاص حق رکھا ہے اور دوسروں کے لئے اقرار صالح ۔ اب ہم منصفین سے پوچھتے ہیں کہ جن لوگوں نے قسم سے گریز کرنے کے لئے عمداً اپنے سوانح کو چھپایا اور وہ جانتے تھے کہ پہلے اس سے ہم کئی دفعہ قسمیں کھا چکے ہیں مگر ا ر ا دتا ان قسموں کو پوشیدہ رکھا اور ایک نہایت مکر وہ جھوٹ بولا اور کہا کہ قسم ہمارے مذہب میں ایسا ہی بدکاری کا کام ہے کہ جیسے مسلمانوں میں خنزیر ۔ اور اپنے بزرگوں کو اپنی زبان سے فاسق فاجر قرار دیا ۔ کیا ان کے اس (۲۰) طریق سے اب تک ثابت نہ ہوا کہ اگر وہ اپنے تئیں حق پر جانتے تو اس ذلت اور رسوائی کو ہرگز ہرگز اختیار نہ کرتے ۔ پس یہ پانچواں قرینہ ہے کہ ان لوگوں نے ایک سچائی کے چھپانے کے لئے اپنے پولس رسول کو ایک ایسے آدمی سے تشبیہ دی کہ جو مسلمان کہلا کر پھر سور کھاوے اسی بات سے ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ در پردہ آتھم اور اس کے دوستوں کو کس بات کا رعب کھا گیا کہ انہوں نے بے ہودہ حیلہ بازیوں اور رسوائی والے طریق کو اختیار کیا مگر آ تتم قسم کھانے سے ایسا ڈرا کہ گویا وہ کھا جانے والا بھیڑیا ہے۔ دانشمندوں کو چاہیے کہ بار بار ان باتوں کو ذہن میں لا دیں کہ کیونکر اول آتھم صاحب نے رو رو کر یہ اقرار کیا کہ میں ضرور پیشگوئی