ضیاءالحق — Page 270
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۷۰ ضیاءالحق رکھی تھی جس سے ہر اس اور ترس اور پریشانی ہر وقت مترشح ہو رہی تھی اور حق سے خائف ہونے کی حالت میں جو جو د ہشتنیں اور قلق اس شخص پر وارد ہوتا ہے جو یقین رکھتا ہے یا ظن رکھتا ہے کہ شائد عذاب الہی نازل ہو جائے یہ سب علامتیں ان میں پائی جاتی تھیں ۔ چنانچہ جب خوف اس جگہ بھی اپنی نہایت کو پہنچا تو دوری مرض کی طرح وہی نظارہ پھر نظر آیا جو لدھیانہ میں نظر آیا تھا مگر اب کی دفعہ وہ کرشمہ قدرت نہایت ہی جلالی تھا جس نے آتھم صاحب کے دل پر بہت ہی کام کیا۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ پھر میں نے فیروز پور میں دیکھا کہ بعض آدمی تلواروں یا نیزوں کے ساتھ آ پڑے۔ غرض معتبر وسائل سے معلوم ہوا ہے کہ اب کی دفعہ ان پر خطرناک خوف طاری ہوا۔ اور خواب میں بھی ڈرتے رہے اور اس عرصہ میں ایک حرف بھی اسلام کے برخلاف منہ سے نہیں نکالا اور نہ کسی کے پاس یہ شکایت پیش کی کہ میرے پر یہ تیسری مرتبہ حملہ ہوا۔ ان تمام حملوں پر نظر غور ڈالنے سے ہر ایک پہلو سے آتھم صاحب قابل الزام ٹھہر گئے ہیں کیونکہ باوجود یکہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ تین حملے ہوئے جن میں سے پہلا حملہ تعلیم یافتہ سانپ کا حملہ ہے مگر آتھم صاحب نے نہ تو حملہ کرنے والوں کو پکڑا اور نہ حسب ضابطہ کسی تھا نہ میں رپورٹ لکھوائی اور نہ کسی عدالت میں نالش کی اور نہ امن حاصل کرنے کے لئے عدالت کے ذریعہ سے ہمارا مچلکہ لکھوایا اور نہ مجرموں کے پکڑنے کے لئے اندھی پولیس نے کچھ مدد دی اور نہ مجلسوں میں اس بات کا تذکرہ کیا اور نہ