ضیاءالحق — Page 269
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۹ ضیاء الحق اور خدا تعالیٰ کے احسان کو یاد نہ رکھا !!! اس لئے انہوں نے باوجود ڈاکٹر کلارک کے بہت سے سیاپے کے نالش نہ کی ۔ اور یہ بھی انہیں معلوم تھا کہ نالش کی تقریب پر قسم بھی دی جائے گی ۔ پس اسی خرخشہ سے جو ان کی جان پر و بال لاتا تھا کنارہ کیا ۔ مگر تا ہم یہ کنارہ کشی بے سود ہے ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا ۔ نادان پادریوں کی تمام یا وہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے ۔ اگر چہ آتھم نے نالش اور قسم سے پہلوتہی کر کے اپنے اس طریق سے 11 صاف بتلا دیا کہ ضرور رجوع بحق کیا ۔ اور تین حملوں کی طرز وقوع سے بھی بتلا دیا کہ وہ حملے انسانی حملے نہیں تھے مگر پھر بھی آتھم اس جرم سے بری نہیں ہے کہ اس نے حق کو علانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا !!! صرف اس کے افعال پر غور کرنے سے عقلمندوں پر حقیقت ظاہر ہوگئی ۔ (۳) تیسرا قرینہ یہ ہے کہ جب آتھم صاحب لو دیا نہ میں بھی آسمانی سلاح پوشوں کا مشاہدہ کر چکے تو اُن کا دل وہاں رہنے سے بھی ٹوٹ گیا ۔ اور حق کے رعب نے ان کو دیوانہ سا بنا دیا ۔ تب وہ اپنے دوسرے داماد کی طرف دوڑے جو فیروز پور میں تھا ۔ شاید اس سے یہ غرض ہو گی کہ وہ اپنے ان تھا۔ عزیزوں کی آخری ملاقاتیں سمجھتے ہوں گے کہ شاید پوشیدہ رجوع معتبر نہ ہو اور دل میں ٹھان لیا ہو گا کہ اگر میں با وجود اندرونی تو بہ اور رجوع کے پھر بھی بچ نہ سکوں تو بارے اپنی لڑکیوں اور عزیزوں کو تو مل لوں ۔ بہر حال وہ افتان خیزان فیروز پور پہنچے اور پیشگوئی کی عظمت نے ان کی وہ حالت بنا