ضیاءالحق

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 581

ضیاءالحق — Page 268

روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۸ ضیاء الحق تو پھر اس جگہ بھی نیزوں تلواروں والے آتھم صاحب پر ضرور آ پڑے ہوں گے اور اگر آتھم صاحب اس پہلے حملے کے بیان کرنے میں صادق ہیں تو اس دوسرے حملہ میں بھی صادق ہوں گے ۔ لیکن افسوس تو یہ ہے کہ جیسے آتھم صاحب بمقام امرتسر سانپ پکڑنے سے ناکام رہے اور اس کو مار بھی نہ سکے یہی ناکامی آتھم صاحب کو اس جگہ بھی نصیب ہوئی ۔ باوجود یکہ پولیس کا انتظام اور داماد کی احتیاطیں امرتسر سے زیادہ تھیں ۔ اور یہ افسوس اور بھی زیادہ ہوتا ہے ۔ جب ہم یہ خیال کرتے ہیں کہ آتھم صاحب جیسا ایک تجربہ کارسرکاری ملازم پنشنر جو مدت دراز تک اکسٹرا اسسٹنٹی کا کام کرتا رہا کیا وہ اس فوجداری قانون سے نا واقف تھا۔ کہ جب اس اقدام قتل تک نوبت پہنچی تھی تو وہ بذریعہ عدالت با ضابطہ ہمارا مچلکہ تحریر کروا کر امن سے لدھیانہ میں لیٹا رہتا ۔ یہ بات کچھ تھوڑی نہیں تھی کہ بقول ان کے جو بعد میں بنائی گئی ہے کہ اقدام قتل کے لئے ان پر حملہ ہوا۔ مگر ان سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا کہ اس ظالمانہ واقعہ کو چند اخباروں میں ہی درج کروا دیتے بلکہ بقول شخصے کہ ” مشتے که بعد از جنگ یاد آید بر کله خود بائد زد‘ ان باتوں کو اس وقت ظاہر کیا جب وہ وقت ہی گذر گیا اور پندرہ مہینے کی میعاد منقضی ہو گئی ۔ پھر بھی یاروں دوستوں نے بہت زور مارا کہ آتھم صاحب اب بھی نالش کر دیں مگر چونکہ وہ اپنے دل میں جانتے تھے کہ یہ سب آسمانی امور ہیں اور سمجھتے تھے کہ نالش کرنا تو آپ اپنے ہاتھ سے ہلاکت کا سامان جمع کرنا ہے ۔ اور خود اس قدر شوخی بھی خطرناک ہے کہ اپنے خوف اور رجوع کو اور پہلو میں لاکر چھپا دیا