ضیاءالحق — Page 267
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۶۷ ضياء الحق کرتا ہے مگر اب کی دفعہ ان کو سانپ دکھائی نہیں دیا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک خوفناک حالت پیدا پیدا ہو ہوئی یعنی یہ کہ بعض مسلح آدمی نیزوں کے ساتھ ان کو دکھائی دیئے کہ گویا وہ ان کے احاطہ کوٹھی کے اندر آ کر بس قریب ہی آپہنچے ہیں اور قتل کرنے کے لئے مستعد ہیں ۔ ہمیں معتمد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس حملہ کے بعد آتھم صاحب اپنی کوٹھی میں بہت روتے رہے اور کبھی یہ بیان نہیں کیا کہ کسی انسان نے حملہ کیا بلکہ ہر وقت ایک پوشیدہ ہاتھ کا خوف ان کے چہرہ پر نمایاں تھا اور وہ خوف اور بے آرامی بڑھتی گئی اور دل کی غمنا کی اور دھڑ کا زیادہ ہوتا گیا ۔ یہاں تک کہ قہر زدہ یہودیوں کی طرح پاؤں کے تلوہ نے پھر بے قراری ظاہر کی ۔ اور وہ کوٹھی بھی کچھ ڈراؤنی سی معلوم ہوئی ۔ اور سچ بھی تھا کہ جس کوٹھی کے احاطہ میں ایسے مسلح پیادے یا سوار گھس آئے کہ با وجود سخت انتظام اور اہتمام پولیس کے لوگوں کے جو حفاظت کے لئے دن رات وہیں جمے رہتے تھے پکڑے نہ گئے اور نہ ان کا حلیہ دریافت ہو سکا اور نہ پتہ لگا کہ کس راہ سے آئے اور کس راہ سے چلے گئے اس خوفناک کوٹھی میں آتھم صاحب کیونکر رہ سکتے تھے ۔ انسان فطرتاً یہ عادت رکھتا ہے کہ جس جگہ سے ایک مرتبہ اس کو خوف آوے تو پھر اسی جگہ رات رہنا پسند نہیں کرتا ۔ غرض انہیں وجوہ سے آتھم صاحب کو لدھیا نہ بھی چھوڑنا پڑا۔ لیکن اب بحث یہ ہے کہ کیا حقیقت میں کوئی جماعت نیزوں یا تلواروں والی بمقام لدھیا نہ آتھم صاحب کی کوٹھی میں گھس آئی تھی ؟ اس بحث کو ہم صرف ان دو کلموں سے طے کر سکتے ہیں کہ اگر بمقام امرتسر آتھم صاحب پر فی الحقیقت کسی تعلیم یا فتہ سانپ نے حملہ کیا تھا ﴿۱۵﴾