ضیاءالحق — Page 257
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۵۷ ضیاء الحق مارٹن کلارک نے امرتسر سے ایک گندہ اشتہار جو اُن کی بدبودار فطرت کا ایک نمونہ تھا جاری کیا ۔ جس کا خلاصہ مطلب یہی تھا کہ ہمارے مذہب میں قسم کھانا ایسا ہی منع ہے جیسا کہ مسلمانوں میں سور کا گوشت کھانا ، مگر افسوس کہ ان کو یہ خیال نہ آیا کہ ہے اگر قسم کھانا سور کے گوشت کے برابر ہے تو یہ سو ر قسم کھانے کا پولوس صاحب اپنی تمام زندگی میں کھاتے رہے ۔ پطرس نے بھی کھایا تو پھر آتھم صاحب پر کیوں حرام ہو گیا ۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ قسم کھانا عیسائیوں میں صرف جائز ہی نہیں بلکہ بعض موقعوں میں واجبات سے ہے ۔ انگریزی عدالتیں جو کسی شخص کو خلاف مذہب مجبور نہیں کرتیں انہوں نے بھی عیسائی مذہب کو قسم کھانے سے باہر نہیں رکھا ۔ اور خود آتھم صاحب کا عدالتوں میں قسم کھانا ثابت ہے ۔ اس لئے چاہئے تھا کہ حضرات پادری صاحبان یا تو آتھم صاحب کو قسم کھانے پر مجبور کرتے یا ان سے نالش کرواتے تا اسی کے ضمن میں ان کو قسم کھانی پڑتی اور یا عام اشتہار دیتے کہ در حقیقت آتھم صاحب ہی دروغ گو ہیں لیکن انہوں نے بجائے اس کے سراسر ہٹ دھرمی سے گالیاں دینی شروع کر دیں اور یہ نابکار عذر پیش کیا کہ آتھم کھلے کھلے کب اسلام لا یا مگر ایک سلیم طبع انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ شرط جو پیشگوئی میں درج ہے اس شرط کے یہ لفظ نہیں ہیں کہ اگر آتھم کھلے کھلے طور پر اسلام لے آوے گا تو وہ موت سے بچے گا ورنہ نہیں بلکہ پیش گوئی میں صرف رجوع کی شرط ہے اور رجوع کا لفظ پوشیدہ طور پر حق کے قبول کرنے پر بھی دلالت کرتا ہے پس اس صورت میں کھلے کھلے اسلام کا مطالبہ سرا سر حماقت ہے۔ سوچنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کا اپنے الہام میں ان الفاظ کا ترک کرنا کہ ارے