ضیاءالحق — Page 256
روحانی خزائن جلد ۹ ۲۵۶ ضياء الحق چون همین قانون قدرت اوفتاد بس ہمیں یاد آر در کشت معاد خوب گفت آن قادر رب الورى لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى ! در مثنوی ہم درین معنی است گر تو بشنوی یادگار مولوی از مکافات عمل غافل مشو گندم از گندم بروید جو ز جو آنکه بر کفاره با خاطر نهاد عقل و دین از دست خود یکسر بداد دین و دنیا جهد خواهد هم تلاش رو براہش جهد کن نادان مباش أَمَّا بَعد واضح ہو کہ اس رسالہ کی تحریر کا یہ باعث ہے کہ ہم نے پہلے اس سے چار قطعہ اشتہار آتھم صاحب کے بارے میں شائع کئے تھے جن میں پادری صاحبان کو بخوبی سمجھایا گیا تھا کہ در حقیقت وہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے جو ہم نے مسٹر عبد الله آتھم کے بارے میں کی تھی لیکن افسوس کہ پادری صاحبوں نے ہمارے ان اشتہارات کو توجہ سے نہیں پڑھا اور اب تک بد گوئی اور بے اعتدالیا ربے اعتدالی اور سب وشتم سے باز نہیں آتے ۔ اور اس بے ہودہ بات پر بار بار زور دیتے ہیں کہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ۔ لیکن ہم نے جو ہمارے ذمہ فرض تھا ادا کر دیا یعنی یہ کہ اگر آتھم صاحب نے رجوع بحق نہیں کیا جو پیشگوئی کی ضروری اور قطعی شرط تھی تو وہ جلسہ عام میں قسم کھا کر چار ہزار روپیہ بطور تاوان کے ہم سے لے لیں مگر آتھم صاح مر آتھم صاحب نے قسم کھانے سے نکار کیا۔ اور ہم چار ہزار کے اشتہار میں ثابت کر چکے ہیں کہ یہ عذر ان کا کہ مقسم ان کے مذہب میں منع ہے سراسر دروغ بے فروغ ہے۔ اور ان کے بزرگ ہمیشہ قسم کھاتے رہے ہیں مگر آتھم صاحب نے ان ثبوتوں کا کچھ جواب نہ دیا۔ ہاں ڈاکٹر النجم : ٤٠