ضرورة الامام — Page 568
48 سرکار انگریزی کی طرف سے لڑائی میں شریک ۵ رابرٹ ایجرٹن فنانشل کمشنر پنجاب کی طرف سے آپ کو آپ کے والد کی وفات پر تعزیتی خط ۷ غلام قادر صاحب میاں پٹواری مرحوم، سنور ۳۵۷ غلام محمد صاحب بابوسٹیشنری کلرک ریلوے لاہور ۳۵۱ غلام محمد صاحب ماسٹربی ا۔ے سیالکوٹ ۳۵۱ غلام محمد صاحب منشی دفتر پولیٹیکل ایجنٹ گلگت ۳۵۲ غلام محی الدین صاحبعرضی نویس جہلم ۳۵۶ غلام محی الدین صاحب بابو گڈز کلرک پھلور ۳۵۱ غلام محی الدین صاحب حافظ بھیروی قادیان ۳۵۷ غلام محی الدین خان صاحب خلف ڈاکٹر بوڑے خان صاحب قصور ۳۵۷ غلام محی الدین صاحب خواجہ سوداگر پشمینہ کلکتہ ۳۵۵ غلام مرتضیٰ صاحب قاضی پنشنر اکسٹرا اسسٹنٹ مظفرگڑھ ۳۵۱ غلام مرتضیٰ ، حضرت مرزا ، والد حضرت اقدس ؑ ۱۶۲ح،۳۴۹،۵۱۴ رؤیا میں آنحضورؐ کو دیکھنا ۱۹۰ح اپنے بیٹے کو دلی یقین سے برّاًبِالْوَالِدَین جانتے تھے اور صرف رحم کے طور پر دنیاوی امور کی طرف توجہ دلاتے ۱۸۴ح آپ حاذق طبیب تھے۔حضور نے بھی آپ سے طبابت کی بعض کتب پڑھیں ۱۸۱ح آپ نے بہت مصائب دیکھے۔ایک دفعہ ہندوستان کا پیادہ پا سیر بھی کیا ۱۷۷ح آپ کا کہنا کہ جس قدر سعی میں نے پلید دنیا کے لئے کی اگر دین کیلئے کرتا تو شاید آج قطب وقت یا غوث وقت ہوتا ۱۸۸ح اپنے والد صاحب کا شعر پڑھنا کہ جب تدبیر کرتا ہوں تو پھر تقدیر ہنستی ہے ۱۹۰ح رقت کے ساتھ اپنے شعر بھی پڑھا کرتے تھے کہ از در تو اے کس ہر بیکسے ۱۸۹ح اپنی خاندانی جائیداد حاصل کرنے کے لئے مقدمات کئے ۱۸۲ح مقدمات میں ناکامیوں کی وجہ سے اکثر مغموم و مہموم رہتے تھے ۱۸۷ح پیروی مقدمات میں ستر ہزار کے قریب روپیہ خرچ کیا جس کاانجام آخر ناکامی تھی ۱۸۷ح حضور کی پیدائش کے بعد آپ کی تنگی کا زمانہ فراخی میں بدل گیا ۱۷۸ح رنجیت سنگھ کی سلطنت کے آخری زمانہ میں واپس قادیان آئے اور پانچ گاؤں واپس ملے ۱۷۵ح سرکار کے سچے وفادار اور نیک نام رئیس تھے ۳۳۸،۳۳۹ ۱۸۵۷ء میں انہوں نے سرکار انگریزی کی خدمت گزاری میں پچاس گھوڑے مع پچاس سواروں کے اپنی گرہ سے خرید کر دئیے تھے ۴،۱۷۷ح مشہور رئیس تھے اور گورنر جنرل کے دربار میں بزمرہ کرسی نشین رئیسوں میں ہمیشہ بلائے جاتے تھے ۴، ۱۷۶ح،۳۳۹ آپ کی وفات پر رابرٹ ایجرٹن فنانشل کمشنر کا مرزا غلام قادر صاحب کے نام مراسلہ ۳۳۸ کمشنر بہادر لاہور رابرٹ کسٹ کا مراسلہ آپ کے نام اس کی نقل ۵،۶ جے۔ایم ولسن کی طرف سے آپ کے نام مراسلہ کی نقل ۴ح وفات سے چھ ماہ قبل مسجد تعمیر کروائی اور وصیت کی کہ مسجد کے ایک گوشہ میں میری قبر ہو تا خدا کا نام میرے کان میں پڑتا رہے ۱۹۱ح مسجد مکمل ہونے پر چند روز بیمار رہ کر وفات پائی ۱۹۱ح غلام مصطفی صاحب مولوی پروپرائٹر شعلہ نور پریس بٹالہ ۳۵۶ غیا ث الدولہ سلطنت مغلیہ کا وزیر جو قادیان آیا اور مرزا گل محمد کے زہد و تقویٰ سے متاثر ہو کر گیا اور کہا کہ اس کو تخت دہلی پر بٹھایا جائے ۱۶۸ح