ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 513 of 630

ضرورة الامام — Page 513

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۳ ضرورة الامام عدالت اور حق پسندی کے دو ایسے نمونے دیئے ہیں جن کو ہم مدت العمر میں بھی بھول نہیں (۴۲) سکتے ۔ کیونکہ کپتان ڈگلس صاحب کے سامنے وہ نازک مقدمہ آیا تھا جس کا فریق مستغیث ایک معزز عیسائی تھا اور جس کی تائید میں گویا پنجاب کے تمام پادری تھے۔ لیکن صاحب موصوف نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہیں کی کہ یہ مقدمہ کس گروہ کی طرف سے ہے اور پورے طور پر عدالت سے کام لیا اور مجھے بری کیا۔ اور جو مقد مہ اب مسٹر ٹی ڈیکسن صاحب کے زیر تجویز آیا۔ یہ بھی نازک تھا کیونکہ ٹیکس کی معافی میں سرکار کا نقصان ہے۔سوصاحب مؤخر الذکر نے بھی سراسر معدلت اور انصاف پسندی اور محض عدل سے کام لیا۔ میری دانست میں اس قسم کے حکام گورنمنٹ کی رعایا پروری اور نیک نیتی اور اصول انصاف کے روشن نمونے ہیں۔ اور واقعی امر یہی تھا جس امرتک مسٹرٹی ڈیکسن صاحب کا روشن خیال پہنچ گیا۔ سو ہم شکر بھی کرتے ہیں اور دعا بھی۔ اور اس جگہ محنت اور تفتیش منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ قابل ذکر ہے جنہوں نے انصاف اور احقاق حق مقصود رکھ کر واقعات صحیحہ کو آئینہ کی طرح حکام بالا دست کو دکھلا دیا اور اس طرح پر ٹھیک ٹھیک اصلیت تک پہنچنے کیلئے اعلیٰ حکام کو مدد دی۔ اب وہ مقدمہ یعنی تحصیلدار صاحب کی رائے اور صاحب ڈپٹی مددی۔ کمشنر بہادر کا اخیر حکم ذیل میں لکھا جاتا ہے۔ نقل رپورٹ منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار پرگنہ بٹالہ ضلع گورداسپور بمقد مہ عذرداری ٹیکس مشموله مثل اجلاسی مسٹر ٹی ڈیکسن صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر مرجوعه ۲۰ / جون ۹۸ ء فیصله ۷ ار ستمبر ۹۸ء نمبر بسته از محکمه نمبر مقدمه مثل عذر داری انکم ٹیکس مسمی مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضی ذات مغل احمد سکنہ قادیاں تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور بحضور جناب والاشان جناب صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر ضلع گورداسپور 144 جناب عالی۔ مرزا غلام احمد قادیانی پر اس سال ماموت انکم ٹیکس تشخیص ہوا تھا اس سے