ضرورة الامام — Page 512
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۱۲ ضرورة الامام کے لئے ناخنوں تک زور لگایا تھا اور میرے ذلیل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تھا آخر میرے خدا نے مجھے بری کیا۔ اور مین کچہری میں کرسی مانگنے پر وہ ذلت اس کے نصیب ہوئی جس سے ایک شریف آدمی مارے ندامت کے مرسکتا ہے۔ یہ ایک صادق کی ذلت چاہنے کا نتیجہ ہے۔ کرسی کی درخواست پر اس کو صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے جھڑ کیاں دیں اور کہا کہ کرسی نہ کبھی تجھ کو ملی اور نہ تیرے باپ کو اور جھڑک کر پیچھے ہٹایا اور کہا کہ سیدھا کھڑا ہو جا۔ اور اُس پر موت پر موت یہ ہوئی کہ ان جھڑ کیوں کے وقت یہ عاجز صاحب ڈپٹی کمشنر کے قریب ہی کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ جس کی ذلت دیکھنے کیلئے وہ آیا تھا۔ اور مجھے کچھ ضرورت نہیں کہ اس واقعہ کو بار بار لکھوں۔ کچہری کے افسر موجود ہیں ان کا عملہ موجود ہے ان سے پوچھنے والے پوچھ لیں۔ اب سوال تو یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا قرآن شریف میں وعدہ ہے کہ وہ مومنوں کی تائید کرتا ہے اور انہیں عزت دیتا ہے اور جھوٹوں اور دجالوں کو ذلیل کرتا ہے پھر یہ الٹی ندی کیوں بہنے لگی کہ ہر ایک میدان میں محمد حسین کو ہی ذلت اور رسوائی اور بے عزتی نصیب ہوتی گئی۔ کیا خدا تعالیٰ کی اپنے پیاروں سے یہی عادت ہے۔ اب ٹیکس کے مقدمہ میں شیخ بٹالوی صاحب کی یہ خوشی تھی کہ کسی طرح ٹیکس لگ جائے تا اسی مضمون کولمبا چوڑا کر کے اشاعۃ السنه کو رونق دیں تا پہلی ذلتوں کی کسی قدر پردہ پوشی ہو سکے۔ سو اس میں بھی وہ نامراد ہی رہا اور صاف طور پر معافی کا حکم آگیا۔ خدا نے اس مقدمہ کو ایسے حکام کے ہاتھ میں دیا جنہوں نے سچائی اور ایمانداری سے عدالت کو پورا کرنا تھا۔ سو بد نصیب بداندیش اس حملہ میں بھی محروم ہی رہے۔ خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے حکام با انصاف پر اصل حقیقت کھول دی۔ اور اس جگہ ہمیں جناب مسٹرٹی ڈیکسن صاحب بہادر ڈپٹی کمشنر ضلع گورداسپورہ کا شکر کرنا چاہئے۔ جن کے دل پر خدا تعالیٰ نے واقعی حقیقت منکشف کر دی۔ اسی وجہ سے ہم ابتداء سے انگریزی حکومت اور انگریزی حکام کے شکر گذار اور مداح اور ثنا خوان ہیں کہ وہ انصاف کو بہر حال مقدم رکھتے ہیں۔ کپتان ڈگلس صاحب سابق کمشنر نے ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ فوجداری میں اور مسٹر ٹی ڈیکسن صاحب نے اس انکم ٹیکس کے مقدمہ میں ہمیں انگریزی