ضرورة الامام — Page 508
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۰۸ ضرورة الامام نشان کے چھپانے کے لئے اول تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہرگز کسوف خسوف نہیں ہوگا بلکہ اس وقت ہوگا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں سے مطابق نہیں۔ کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کو گرہن اول رات میں لگے گا اور سورج کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے گا۔ حالانکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا۔ اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مراد نہیں۔ اور پہلی تاریخ کے چاند کو تم نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے۔ اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔ سو حدیث کے معنے یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے یعنی مہینہ کی تیرھویں رات۔ اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیس تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے۔ تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنے کو سن کر بہت شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکا ہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہے۔ تب ان کو کہا گیا کہ جب کہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہوگئی تو وہ جرح جس کی بناشک پر ہے۔ اس یقینی واقعہ کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔ یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ صادق کا کلام ہے۔ اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محد ثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ یہ قانون قدرت ہے کہ چاند گرہن کیلئے مہینہ کی تین رات مقرر ہیں یعنی تیرھویں چودھویں پندرھویں اور ہمیشہ چاند گرہن ان تین راتوں میں سے کسی ایک میں لگتا ہے۔ پس اس حساب سے چاند گرہن کی پہلی رات تیرھویں رات ہے جس کی طرف حدیث کا اشارہ ہے اور سورج گرہن کے دن مہینہ کی ستائیسویں اور اٹھائیسویں اور انیسویں تاریخ ہے پس اس حساب سے درمیانی دن سورج گرہن کا اٹھائیسواں ہے۔ اور انہیں تاریخوں میں گرہن لگا۔ منہ