ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 507 of 630

ضرورة الامام — Page 507

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۰۷ ضرورة الامام ایک یہ بھی حکمت الہی مخفی تھی کہ تا خدا تعالیٰ کی تائید میری جان اور آبرو اور مال کے متعلق یعنی تینوں طرح سے اور تینوں پہلوؤں سے ثابت ہو جائے کیونکہ جان اور آبرو کے متعلق تو ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں نصرت الہی بپایہ ثبوت پہنچ چکی تھی ۔ مگر مال کے متعلق امر تائید ہنوز مخفی تھا۔سو خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے ارادہ فرمایا کہ پبلک کو مال کے متعلق بھی اپنی تائید دکھلاوے۔سو اس نے یہ تائید بھی ظاہر فرما کر تینوں قسم کی تائیدات کا دائرہ پورا کر دیا۔ سو یہی بھید ہے کہ یہ مقدمہ برپا کیا گیا اور جیسا کہ ڈاکٹر کلارک کا مقدمہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس لئے برپا نہیں ہوا تھا کہ مجھ کو ہلاک یا ذلیل کیا جائے بلکہ اس لئے بر پا ہوا تھا کہ اس قادر کریم کے نشان ظاہر ہوں۔ ایسا ہی اس میں بھی ہوا اور جس طرح میرے خدا نے جان اور عزت کے مقدمہ میں پہلے سے الہام کے ذریعہ سے یہ بشارت دی تھی کہ آخر میں بریت ہوگی اور دشمن شرمسار ہوں گے۔ ایسا ہی اس نے اس مقدمہ میں بھی پہلے سے خوشخبری دی کہ انجام کار ہماری فتح ہوگی اور حاسد بد باطن ناکام رہیں گے۔ چنانچہ وہ الہامی خوشخبری اخیر حکم کے نکلنے کے پہلے ہی ہماری جماعت میں خوب اشاعت پا چکی تھی۔ اور جیسا کہ ہماری جماعت نے جان اور آبرو کے مقدمہ میں ایک آسمانی نشان دیکھا تھا اس میں بھی انہوں نے ایک آسمانی نشان دیکھ لیا جوان کے ایمان کی زیادت کا موجب ہوا۔ فالحمد للہ علی ذالک۔ مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجودیکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں خدا تعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الہی ان کی نسبت بھی ثابت ہو مگر بجائے تائید کے دن بدن انکا خذلان اور ان کا نا مراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔ مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگے گا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑ کہ شروع ہو گیا تھا کہ مہدی اور مسیح ہونے کا (۳۷) مدعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔ تب اس