ضرورة الامام — Page 505
روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام عظمت و جبروت کو مجرد الفاظ اور علمی رنگ نے فوق العادہ رنگ میں قلوب پر نہیں بٹھایا بلکہ (۳۴ حضور پاک علیہ الصلوۃ والسلام کے عملی نمونوں اور بے نظیر اخلاق اور دیگر تائیدات سماویہ کی رفاقت اور پیاپے ظہور نے ایسا لازوال سکہ آپ کے خدام کے دلوں پر جمایا۔ خدا تعالیٰ کو چونکہ اسلام بہت پیارا ہے اور اس کا ابدالدھر تک قائم رکھنا منظور ہے۔ اس لئے اس نے پسند نہیں کیا کہ یہ مذہب بھی دیگر مذاہب عالم کی طرح قصوں اور فسانوں کے رنگ میں ہوکر تقویم پارینہ ہو جائے۔ اس پاک مذہب میں ہر زمانہ میں زندہ نمونے موجود رہے ہیں۔ جنہوں نے علمی اور عملی طور پر حامل قرآن علیه صلوات الرحمن کا زمانہ لوگوں کو یاد دلایا۔ اسی سنت کے موافق ہمارے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود أَيَّدَهُ اللهُ الْوُدُود کو ہم میں کھڑا کیا کہ زمانہ پر وہ ایک گواہ ہو جائے۔ میں نے جو کچھ اس خط میں لکھنا چاہا تھا حضرت اقدس امام صادق علیہ السلام کے وجود پاک کی ضرورت پر چند وجدانی دلائل تھے۔ اس اثنا میں بعض تحریکات کی وجہ سے خود حضرت اقدس نے "ضرورت امام پر پرسوں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھ ڈالا ہے جو عنقریب شائع ہوگا ۔ ناچار میں نے اس ارادے کو چھوڑ دیا۔ بالآخر میں اپنی نیکی سے بھری ہوئی صحبتوں کو آپ کے باقاعدہ حسن ارادت کے ساتھ درس کتاب اللہ میں حاضر ہونے کو آپ کے اپنی نسبت کمال حسن ظن کو اور ان سب پر آپ کی نیک دل اور پاک تیاری کو آپ کو یاد دلاتا اور آپ کی ضمیر روشن اور فطرت مستقیمہ کی خدمت میں اپیل کرتا ہوں کہ آپ سوچیں وقت بہت نازک ہے۔ جس زندہ ایمان کو قرآن چاہتا ہے اور جیسی گناہ سوز آگ قرآن سینوں میں پیدا کرنی چاہتا ہے وہ کہاں ہے۔ میں خدائے رب عرش عظیم کی قسم کھا کر آپ کو یقین دلاتا ہوں۔ وہی ایمان حضرت نائب الرسول مسیح موعود کے ہاتھ میں ہاتھ دینے اور اس کی پاک صحبت میں بیٹھنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اب اس کارخیر میں تو قف کرنے سے مجھے خوف ہے کہ دل میں کوئی خوفناک تبدیلی پیدا نہ ہو جائے۔ دنیا کا خوف چھوڑ دو اور خدا کیلئے سب کچھ کھو دو کہ یقیناً سب کچھیل جائے گا۔ والسلام ا۔ اکتوبر ۱۸۹۸ء عاجز عبدالکریم از قادیاں