ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 504 of 630

ضرورة الامام — Page 504

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۵۰۴ ضرورة الامام کیا بات ہے جس میں ایسی زبردست قدرت ہے جو سارے ہی سلسلوں کو توڑ تاڑ دیتی ہے۔ آپ خوب جانتے ہیں میں بقدر استطاعت کے کتاب اللہ کے معارف واسرار سے بہرہ مند ہوں اور اپنے ۳۳ گھر میں کتاب اللہ کے پڑھنے اور پڑھانے کے سوا مجھے اور کوئی شغل نہیں ہوتا۔ پھر میں یہاں کیا سیکھتا ہوں کیا وہ گھر میں پڑھنا اور ایک معتد بہ جماعت میں مشار الیہ اور مطمح انظار بننا میری روح یا میرے نفس کے بہلانے کو کافی نہیں۔ ہر گز نہیں ۔ واللہ ثم تاللہ ہرگز نہیں۔ میں قرآن کریم پڑھتا لوگوں کو سناتا۔ جمعہ میں ممبر پر کھڑا ہو کر بڑے پر اثر اخلاقی وظیں کرتا اور لوگوں کو عذاب الہی سے ڈراتا اور نواہی سے بچنے کی تاکیدیں کرتا مگر میرا نفس ہمیشہ مجھے اندر اندر ملامتیں کرتا کہ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ ! میں دوسروں کو لا تا پرخود نہ روتا۔ اوروں کو نا کر دنی اور نا گفتنی امور سے ہٹا تا پر خود نہ ہٹتا۔ چونکہ متعمد ریا کار اور خود غرض مکار نہ تھا۔ اور حقیقتا حصول جاہ و دنیا میرا قبلہ عہمت نہ تھا۔ میرے دل میں جب ذرا تنہا ہوتا ہجوم کر کے یہ خیالات آتے مگر چونکہ اپنی اصلاح کے لئے کوئی راہ و روئے نظر نہ آتا اور ایمان ایسے جھوٹے خشک عملوں پر قانع ہونے کی اجازت بھی نہ دیتا۔ آخران کشاکشوں سے ضعف دل کے سخت مرض میں گرفتار ہو گیا۔ بارہا مصمم ارادہ کیا کہ پڑھنا پڑھانا اور وعظ کرنا قطعاً چھوڑ دوں۔ پھر پھر لپک لپک کر اخلاق کی کتابوں ۔ تصوف کی کتابوں اور تفاسیر کو پڑھتا۔ احیاء العلوم اور عوارف المعارف اور فتوحات مکیہ ہر چہار جلد اور اور کثیر کتا بیں اسی غرض سے پڑھیں اور بتوجہ پڑھیں اور قرآن کریم تو میری روح کی غذا تھی اور محمد اللہ ہے۔ بچپن سے اور بالکل بے شعوری کے سن سے اس پاک بزرگ کتاب سے مجھے اس قدر انس ہے کہ میں اس کا کم و کیف بیان نہیں کر سکتا۔ غرض علم تو بڑھ گیا اور مجلس کے خوش کرنے اور وعظ کو سجانے کے لئے لطائف ظرائف بھی بہت حاصل ہو گئے ۔ اور میں نے دیکھا کہ بہت سے بیمار میرے ہاتھوں سے چنگے بھی ہو گئے ۔ مگر مجھ میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہوتی تھی ۔ آخر بڑے حیص بیص کے بعد مجھ پر کھولا گیا کہ زندہ نمونہ یا اس زندگی کے چشمہ پر پہنچنے کے سوا جو اندرونی آلائشوں کو دھو سکتا ہو یہ میل اترنے والی نہیں۔ ہادی کامل خاتم الانبياء صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ وَسَلَام نے کس طرح صحابہ کو منازل سلوک ۲۳ برس میں طے کرائیں۔ قرآن علم تھا اور آپ اس کا سچا عملی نمونہ تھے۔ قرآن کے احکام کی ا الصف : ٢٣