ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 630

ضرورة الامام — Page 500

روحانی خزائن جلد ۱۳ ضرورة الامام صفائی بڑھے گی۔ یہی بھید ہے کہ قرآن کی وحی دوسرے تمام نبیوں کی وحیوں سے علاوہ معارف کے فصاحت بلاغت میں بھی بڑھ کر ہے کیونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ دل کی صفائی دی گئی تھی ۔ سو وہ وحی معنوں کے رو سے معارف کے رنگ میں اور الفاظ کے رو سے بلاغت فصاحت کے رنگ میں ظاہر ہوئی۔ میرے دوست یہ بھی یادرکھیں کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بیعت ایک خرید و فروخت کا معاملہ ہے اور میں حلفاً کہتا ہوں کہ جس قدر ہمارے دوست فاضل مولوی عبد الکریم صاحب وعظ کے وقت قرآن شریف کے حقائق معارف بیان کرتے ہیں مجھے ہرگز امید نہیں کہ ان کا ہزارم حصہ بھی میرے عزیز دوست کے منہ سے نکل سکے۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ الہامی طریق ابھی ناقص اور کسی طریق بکلی متروک۔ نہ معلوم کسی محقق سے قرآن سننے کا بھی اب تک موقعہ ہوا یا نہیں ۔ آپ برائے خدا ناراض نہ ہوں ۔ آپ نے اب تک بیعت کی حقیقت نہیں سمجھی کہ اس میں کیا دیتے ہیں اور کیا لیتے ہیں۔ ہماری جماعت میں اور میرے بیعت کردہ بندگان خدا میں اک مرد ہیں جو جلیل الشان فاضل ہیں اور وہ مولوی حکیم حافظ حاجی حرمین نورالدین صاحب ہیں جو گویا تمام جہان کی تفسیریں اپنے پاس رکھتے ہیں اور ایسا ہی ان کے دل میں ہزار ہا قرآنی معارف کا ذخیرہ ہے۔ اگر آپ کو فی الحقیقت بیعت لینے کی فضیلت دی گئی ہے۔ تو ایک قرآن کا سپارہ ان ہی کو مع حقائق معارف کے پڑھا دیں۔ یہ لوگ دیوانے تو نہیں کہ انہوں نے مجھ سے ہی بیعت کر لی اور دوسرے ملہموں کو چھوڑ دیا۔ اگر آپ حضرت مولوی صاحب موصوف کی پیروی کرتے تو آپ کیلئے بہتر ہوتا۔ آپ سوچیں کہ فاضل موصوف جو خانماں چھوڑ کر میرے پاس آ بیٹھے نوٹ ہم انکار نہیں کرتے کہ آپ پر لدنی علم کے چشمے کھل جائیں مگر ابھی تو نہیں ۔ خوابوں اور کشفوں پر استعارات اور مجازات غالب ہوتے ہیں۔ مگر آپ نے اپنے خواب کو حقیقت پر عمل کر لیا۔ مجد و صاحب سر ہندی نے ایک کشف میں دیکھا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی طفیل خلیل اللہ کا مرتبہ ملا اور اس سے بڑھ کر شاہ ولی اللہ صاحب نے دیکھا تھا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی ہے مگر انہوں نے باعث بسطت علم کے وہ خیال نہ کیا۔ جو آپ نے کیا۔ بلکہ تاویل کی ۔ منہ