ضرورة الامام — Page 499
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۹ ضرورة الامام نہیں چاہتا۔ ہمارے ملہم دوست کسی ایک جلسہ میں سورۂ اخلاص کے ہی حقائق معارف بیان فرماویں جس سے ہزار درجہ بڑھ کر ہم بیان نہ کرسکیں ۔ تو ہم ان کے مطیع ہیں۔ ندارد کسے باتو ناگفته کار و لیکن چو گفتی دلیلش بیار بہر حال اگر آپ کے پاس وہ حقائق اور معارف اور برکات ہیں جو معجزانہ اثر اپنے اندر رکھتے ہیں۔ تو پھر میں کیا میری تمام جماعت آپ کی بیعت کرے گی اور کوئی سخت بدذات ہوگا کہ جو ایسا نہ کرے۔ مگر میں کیا کہوں اور کیا لکھوں معافی مانگ کر کہتا ہوں کہ جس وقت میں نے آپ کے الہامات لکھے ہوئے سنے تھے ان میں بھی بعض جگہ صرفی اور نحوی غلطیاں تھیں ۔ آپ ناراض نہ ہوں میں نے محض نیک نیتی سے اور غربت سے دینی نصیحت کے طور پر یہ بھی بیان کر دیا ہے۔ باایں ہمہ میرے نزدیک اگر الہامات میں کسی نا واقف اور نا خواندہ کے الہامی فقروں میں نحوی صرفی غلطی ہو جائے تو نفس الہام قابل اعتراض نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک نہایت دقیق مسئلہ ہے اور بڑے بسط کو چاہتا ہے جس کا یہ محل نہیں ہے ۔ اگر ایسی غلطیاں سن کر کوئی خشک ملا جوش میں آجاوے تو وہ بھی معذور ہے کیونکہ روحانی فلاسفی کے کوچہ میں اس کو دخل نہیں۔ لیکن یہ ادنی درجہ کا الہام کہلاتا ہے جو خدا تعالیٰ کے نور کی پوری تجلی سے رنگ پذیر نہیں ہوتا کیونکہ الہام تین طبقوں کا ہوتا ہے ادنیٰ اور اوسط اور اعلیٰ ۔ بہر حال ان غلطیوں سے مجھے شرمندہ ہونا پڑا۔ اور میں اپنے دل میں دعا کرتا تھا کہ میرے معزز دوست کسی شریر خشک ملا کو یہ الہامات جو بظاہر قابل اعتراض ہیں نہ سناویں کہ وہ خواہ نخواہ ٹھٹھا اور ہنسی کرے گا۔ جو الہام حقائق معارف سے خالی اور غلطیوں سے بھی پر ہو کسی موافق یا مخالف کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا خاص کر اس زمانہ میں بلکہ بجائے فائدہ نقصان کا اندیشہ ہے۔ میں ایمان سے اور سچائی سے حلفاً کہتا ہوں کہ یہ بات سراسر بیچ ہے۔ میرے عزیز دوست توجہ الی اللہ کی طرف زیادہ ترقی کریں کہ جیسے جیسے دل کی صفائی بڑھے گی ایسا ہی الہام میں فصاحت کی ۲۹ میرا یقین ہے کہ اگر یہ معزز دوست زیادہ توجہ فرمائیں گے ۔ تو جلد تر ان کے الہامات میں ایک کامل رنگ پیدا ہو جائے گا ۔ منہ