ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 498 of 630

ضرورة الامام — Page 498

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۸ ضرورة الامام آپ کی نسبت کہا ہے کہ میں ان کی کیوں بیعت کروں بلکہ انہیں میری بیعت کرنی چاہئے۔ اس خواب سے معلوم ہوا کہ وہ مجھے مسیح موعود نہیں مانتے اور نیز یہ کہ وہ مسئلہ امامت حقہ سے بے خبر ہیں۔ لہذا میری ہمدردی نے تقاضا کیا کہتا میں ان کیلئے امامت حقہ کے بیان میں یہ رسالہ لکھوں اور بیعت کی حقیقت تحریر کروں سو میں امام حق کے بارے میں جس کو بیعت لینے کا حق ہے۔ اس رسالے میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں۔ رہی حقیقت بیعت کی سو وہ یہ ہے کہ بیعت کا لفظ بیع سے مشتق ہے۔ اور بیع اس باہمی رضامندی کے معاملہ کو کہتے ہیں جس میں ایک چیز دوسری چیز کے عوض میں دی جاتی ہے۔ سو بیعت سے غرض یہ ہے کہ بیعت کر نیوالا اپنے نفس کو مع اس کے تمام لوازم کے ایک رہبر کے ہاتھ میں اس غرض سے بیچے کہ تا اس کے عوض میں وہ معارف حقہ اور برکات کاملہ حاصل کرے جو موجب معرفت اور نجات اور رضامندی باری تعالیٰ ہوں۔ اس سے ظاہر ہے کہ بیعت سے صرف تو بہ منظور نہیں۔ کیونکہ ایسی تو بہ تو انسان بطور خود بھی کر سکتا ہے بلکہ وہ معارف اور برکات اور نشان مقصود ہیں جو حقیقی توبہ کی طرف کھینچتے ہیں۔ بیعت سے اصل مدعا یہ ہے کہ اپنے نفس کو اپنے رہبر کی غلامی میں دے کر وہ علوم اور معارف اور برکات اس کے عوض میں لیوے جن سے ایمان قوی ہو اور معرفت بڑھے۔ اور خدا تعالیٰ سے صاف تعلق پیدا ہو اور اسی طرح دنیوی جہنم سے رہا ہو کر آخرت کے دوزخ سے مخلصی نصیب ہو اور دنیوی نابینائی سے شفا پا کر آخرت کی نابینائی سے بھی امن حاصل ہو۔ سو اگر اس بیعت کے ثمرہ دینے کا کوئی مرد ہو تو سخت بدذاتی ہوگی کہ کوئی شخص دانستہ اس سے اعراض کرے۔ عزیز من! ہم تو معارف اور حقائق اور آسمانی برکات کے بھوکے اور پیاسے ہیں اور ایک سمندر بھی پی کر سیر نہیں ہو سکتے۔ پس اگر ہمیں کوئی اپنی غلامی میں لینا چاہے تو یہ بہت سہل طریق ہے کہ بیعت کے مفہوم اور اس کی اصل فلاسفی کو ذہن میں رکھ کر یہ خرید وفروخت ہم سے کر لے اور اگر اس کے پاس ایسے حقائق اور معارف اور آسمانی برکات ہوں جو ہمیں نہیں دیئے گئے اور یا اس پر وہ قرآنی علوم کھولے گئے ہوں جو ہم پر نہیں کھولے گئے۔ تو بسم اللہ وہ بزرگ ہماری غلامی اور اطاعت کا ہاتھ لیوے اور وہ روحانی معارف اور قرآنی حقائق اور آسمانی برکات ہمیں عطا کرے۔ میں تو زیادہ تکلیف دینا ہی