ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 496 of 630

ضرورة الامام — Page 496

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۶ ضرورة الامام اور میں امام مالک اور ابن حزم اور معتزلہ کے قول کو مسیح کی وفات کے بارے میں صحیح قرار دیتا ہوں اور دوسرے اہل سنت کو غلطی کا مرتکب سمجھتا ہوں ۔ سو میں بحیثیت حکم ہونے کے ان جھگڑا کرنے والوں میں یہ حکم صادر کرتا ہوں کہ نزول کے اجمالی معنوں میں یہ گروہ اہل سنت کا سچا ہے کیونکہ مسیح کا بروزی طور پر نزول ہونا ضروری تھا۔ ہاں نزول کی کیفیت بیان کرنے میں ان لوگوں نے غلطی کھائی ہے۔ نزول صفت بروزی تھا نہ کہ حقیقی ۔ اور مسیح کی وفات کے مسئلہ میں معتزلہ اور امام مالک اور ابن حزم وغیرہ ہمکلام ان کے بچے ہیں کیونکہ بموجب نص صریح آیت کریمہ یعنی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے مسیح کا عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے وفات پانا ضروری تھا۔ یہ میری طرف سے بطور حکم کے فیصلہ ہے۔ اب جو شخص میرے فیصلہ کو قبول نہیں کرتا وہ اس کو قبول نہیں کرتا جس نے مجھے حکم مقرر فرمایا ہے۔ اگر یہ سوال پیش ہو کہ تمہارے حکم ہونے کا ثبوت کیا ہے؟ اس کا یہ جواب ہے کہ جس زمانہ کیلئے حکم آنا چاہیے تھا وہ زمانہ موجود ہے اور جس قوم کی صلیبی غلطیوں کی حکم نے اصلاح کرنی تھی وہ قوم موجود ہے۔ اور جن نشانوں نے اس حکم پر گواہی دینی تھی وہ نشان ظہور میں آچکے ہیں اور اب بھی نشانوں کا سلسلہ شروع ہے۔ آسمان نشان ظاہر کر رہا ہے زمین نشان ظاہر کر رہی ہے اور مبارک وہ جن کی آنکھیں اب بند نہ رہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پہلے نشانوں پر ہی ایمان لاؤ بلکہ میں کہتا ہوں کہ اگر میں حکم نہیں ہوں تو میرے نشانوں کا مقابلہ کرو۔ میرے مقابل پر جو اختلاف عقائد کے وقت آیا ہوں اور سب بحثیں لکھی ہیں ۔ صرف حکم کی بحث میں ہر ایک کا حق ہے جس کو میں پورا کر چکا ہوں۔ خدا نے مجھے چار نشان دیئے ہیں۔ (1) میں قرآن شریف کے معجزہ کے ظل پر عربی بلاغت فصاحت کا نشان دیا گیا (۲۶) ہوں ۔ کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔ (۲) میں قرآن شریف کے حقائق معارف بیان کرنے کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں کہ