ضرورة الامام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 495 of 630

ضرورة الامام — Page 495

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۹۵ ضرورة الامام یادر ہے کہ امام الزمان کے لفظ میں نبی ، رسول، محدث ، مجد دسب داخل ہیں ۔ مگر جو لوگ ارشاد اور ہدایت خلق اللہ کیلئے مامور نہیں ہوئے اور نہ وہ کمالات ان کو دیئے گئے ۔ وہ گو ولی ہوں یا ابدال ہوں امام الزمان نہیں کہلا سکتے۔ اب بالآخر یہ سوال باقی رہا کہ اس زمانہ میں امام الزمان کون ہے جس کی پیروی تمام عام مسلمانوں اور زاہدوں اور خواب بینوں اور ملہموں کو کرفی خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔ سو میں اس وقت بے دھڑک کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فضل اور عنایت سے وہ امام الزمان میں ہوں اور مجھ میں خدا تعالیٰ نے وہ تمام علامتیں اور تمام شرطیں جمع کی ہیں اور اس صدی کے سر پر مجھے مبعوث فرمایا ہے جس میں سے پندرہ برس گزر بھی گئے ۔ اور ایسے وقت میں میں ظاہر ہوا ہوں کہ جب کہ اسلامی عقیدے اختلافات سے بھر گئے تھے ۔ اور کوئی عقیدہ اختلاف سے خالی نہ تھا۔ ایسا ہی مسیح کے نزول کے بارے میں نہایت غلط خیال پھیل گئے تھے اور اس عقیدے میں بھی اختلاف کا یہ حال تھا کہ کوئی حضرت عیسی کی حیات کا قائل تھا اور کوئی موت کا اور کوئی جسمانی نزول مانتا تھا اور کوئی بروزی نزول کا معتقد تھا اور کوئی دمشق میں ان کو اتار رہا تھا اور کوئی مکہ میں اور کوئی بیت المقدس میں اور کوئی اسلامی لشکر میں اور کوئی خیال کرتا تھا کہ ہندوستان میں اتریں گے۔ پس یہ تمام مختلف رائیں اور مختلف قول ایک فیصلہ کرنے والے حکم کو چاہتے تھے سو وہ حکم میں ہوں۔ میں روحانی طور پر کسر صلیب کے لئے اور نیز اختلافات کے دور کرنے کیلئے بھیجا گیا (۲۵) ہوں ۔ ان ہی دونوں امروں نے تقاضا کیا کہ میں بھیجا جاؤں میرے لئے ضروری نہیں تھا کہ میں اپنی حقیت کی کوئی اور دلیل پیش کروں کیونکہ ضرورت خود دلیل ہے لیکن پھر بھی میری تائید میں خدا تعالیٰ نے کئی نشان ظاہر کئے ہیں اور میں جیسا کہ اور اختلافات میں فیصلہ کرنے کے لئے حکم ہوں۔ ایسا ہی وفات حیات کے جھگڑے میں بھی میں حکم ہوں۔