ضرورة الامام — Page 484
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۴ ضرورة الامام ا سکتا قرآن شریف کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ قرآن شریف کے بیان سے شیطانی الہام ثابت ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک انسان کا تزکیہ نفس پورے اور کامل طور پر نہ ہو تب تک اس کو شیطانی الہام ہو سکتا ہے اور وہ آیت عَلَى كُلِّ أَفَاكٍ أَثِيْم - کے نیچے آ سکے ہے مگر پاکوں کو شیطانی وسوسہ پر بلا توقف مطلع کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ بعض پادری صاحبان نے اپنی تصنیفات میں حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اس واقعہ کی تفسیر میں کہ جب ان کو ایک پہاڑی پر شیطان لے گیا۔ اس قدر جرات کی ہے کہ وہ لکھتے ہیں کہ یہ کوئی خارجی بات نہ تھی جس کو دنیا دیکھتی اور جس کو یہودی بھی مشاہدہ کرتے بلکہ یہ تین مرتبہ شیطانی ۱۳) الهام حضرت مسیح کو ہوا تھا جس کو انہوں نے قبول نہ کیا مگر انجیل کی ایسی تفسیر سننے سے ہمارا تو بدن کا نپتا ہے کہ مسیح اور پھر شیطانی الہام۔ ہاں اگر اس شیطانی گفتگو کو شیطانی الہام نہ مانیں اور یہ خیال کریں کہ در حقیقت شیطان نے مجسم ہو کر حضرت عیسی علیہ السلام سے ملاقات کی تھی تو یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطان نے جو پرانا سانپ ہے فی الحقیقت اپنے تئیں جسمانی صورت میں ظاہر کیا تھا اور وجود خارجی کے ساتھ آدمی بن کر یہودیوں کے ایسے متبرک معبد کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا تھا جس کے اردگر دصد ہا آدمی رہتے تھے تو ضرور تھا کہ اس کے دیکھنے کیلئے ہزاروں آدمی جمع ہو جاتے بلکہ چاہئے تھا کہ حضرت مسیح آواز مار کر یہودیوں کو شیطان دکھلا دیتے جس کے وجود کے کئی فرقے منکر تھے ۔ اور شیطان کا دکھلا دینا حضرت مسیح کا ایک نشان ٹھہرتا جس سے بہت آدمی ہدایت پاتے اور رومی سلطنت کے معزز عہدہ دار شیطان کو دیکھ کر اور پھر اس کو پرواز کرتے ہوئے مشاہدہ کر کے ضرور حضرت مسیح کے پیرو ہو جاتے مگر ایسا نہ ہوا۔ اس سے یقین ہوتا ہے کہ یہ کوئی روحانی مکالمہ تھا جس کو دوسرے لفظوں میں شیطانی الہام کہہ سکتے ہیں مگر میرے خیال میں یہ بھی آتا ہے کہ یہودیوں کی کتابوں میں بہت سے شریر انسانوں کا نام بھی شیطان رکھا گیا ہے۔ چنانچہ اسی محاورہ کے لحاظ سے مسیح نے بھی ایک اپنے بزرگ حواری کو جس کو انجیل میں اس واقعہ کی تحریر سے چند سطر ہی پہلے بہشت کی کنجیاں دی گئی تھیں الشعراء:۲۲۳