ضرورة الامام — Page 483
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۳ ضرورة الامام راہب عیسائی دین کے مرنے کے بعد ا کثر ایسے ہی تھے۔ چھٹے کشوف اور الہامات کا سلسلہ ہے جو امام الزمان کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ امام الزمان اکثر بذریعہ الہامات کے خدا تعالیٰ سے علوم اور حقائق اور معارف پاتا ہے اور اس کے الہامات دوسروں پر قیاس نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ وہ کیفیت اور کمیت میں اس اعلیٰ درجہ پر ہوتے ہیں جس سے بڑھ کر انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور ان کے ذریعہ سے علوم کھلتے ہیں اور قرآنی معارف معلوم ہوتے ہیں۔ اور دینی عقدے اور معضلات حل ہوتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی پیشگوئیاں جو مخالف قوموں پر اثر ڈال سکیں ظاہر ہوتی ہیں۔ غرض جو لوگ امام الزمان ہوں ان کے کشوف اور الہام صرف ذاتیات تک محدود نہیں ہوتے ۔ بلکہ نصرت دین اور تقویت ایمان کیلئے نہایت مفید اور مبارک ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ ان سے نہایت صفائی سے مکالمہ کرتا ہے اور ان کی دعا کا (۱۳) جواب دیتا ہے اور بسا اوقات سوال اور جواب کا ایک سلسلہ منعقد ہو کر ایک ہی وقت میں سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب اور پھر سوال کے بعد جواب ایسے صفا اور لذیذ اور فصیح الہام کے پیرایہ میں شروع ہوتا ہے کہ صاحب الہام خیال کرتا ہے کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ اور امام الزمان کا ایسا الہام نہیں ہوتا کہ جیسے ایک کلوخ انداز در پردہ ایک کلوخ پھینک جائے اور بھاگ جائے اور معلوم نہ ہو کہ وہ کون تھا اور کہاں گیا بلکہ خدا تعالیٰ ان سے بہت قریب ہو جاتا ہے اور کسی قدر پردہ اپنے پاک اور روشن چہرہ پر سے جو نور محض ہے اتار دیتا ہے۔ اور یہ کیفیت دوسروں کو میسر نہیں آتی بلکہ وہ تو بسا اوقات اپنے تئیں ایسا پاتے ہیں کہ گویا ان سے کوئی ٹھٹھا کر رہا ہے۔ اور امام الزمان کی الہامی پیشگوئیاں اظہار علی الغیب کا مرتبہ رکھتی ہیں۔ یعنی غیب کو ہر ایک پہلو سے اپنے قبضہ میں کر لیتی ہیں۔ جیسا کہ چابک سوار گھوڑے کو قبضہ میں کرتا ہے اور یہ قوت اور انکشاف اس لئے ان کے الہام کو دیا جاتا ہے کہ تا ان کے پاک الہام شیطانی الہامات سے مشتبہ نہ ہوں اور تا دوسروں پر حجت ہوسکیں۔ واضح ہو کہ شیطانی الہامات ہونا حق ہے اور بعض نا تمام سالک لوگوں کو ہوا کرتے ہیں۔ اور حدیث انفس بھی ہوتی ہے جس کو اضغاث احلام کہتے ہیں اور جو شخص اس سے انکار کرے وہ