ضرورة الامام — Page 482
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۲ ضرورة الامام آپڑے اور کسی نشان کا مطالبہ ہو۔ اور یا کسی فتح کی ضرورت ہو اور یا کسی کی ہمدردی واجبات سے ہو۔ خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہیں اور پھر ایسے جھکتے ہیں کہ ان کے صدق اور اخلاص اور محبت اور وفا اور عزم لاینفک سے بھری ہوئی دعاؤں سے ملاء اعلیٰ میں ایک شور پڑ جاتا ہے اور ان کی محویت کے تضرعات سے آسمانوں میں ایک دردناک غلغلہ پیدا ہوکر ملائک میں اضطراب ڈالتا ہے۔ پھر جس طرح شدت کی گرمی کی انتہا کے بعد برسات کی ابتداء میں آسمان پر بادل نمودار ہونے شروع ہو جاتے ہیں اسی طرح ان کے اقبال علی اللہ کی حرارت یعنی خدا تعالی کی طرف ۱۳ سخت توجہ کی گرمی آسمان پر کچھ بنانا شروع کر دیتی ہے اور تقدیر میں بدلتی ہیں اور الہی ارادے اور رنگ پکڑتے ہیں یہاں تک کہ قضاء و قدر کی ٹھنڈی ہوائیں چلنی شروع ہو جاتی ہیں۔ اور جس طرح تپ کا مادہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر مسہل کی دوا بھی خدا تعالیٰ کے حکم سے ہی اس مادہ کو باہر نکالتی ہے۔ ایسا ہی مردان خدا کے اقبال علی اللہ کی تاثیر ہوتی ہے ۔ آں دعائے شیخ نے چوں ہر دعاست فانی است و دست او دست خداست اور امام الزمان کا اقبال علی اللہ یعنی اس کی توجہ الی اللہ تمام اولیاء اللہ کی نسبت زیادہ تر تیز اور سریع الاثر ہوتی ہے جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنے وقت کا امام الزمان تھا اور بلعم اپنے وقت کا ولی تھا جس کو خدا تعالیٰ سے مکالمہ اور مخاطبہ نصیب تھا اور نیز مستجاب الدعوات تھا۔ لیکن جب موسیٰ سے بلعم کا مقابلہ آ پڑا تو وہ مقابلہ اس طرح بلعم کو ہلاک کر گیا کہ جس طرح ایک تیز تلوار ایک دم میں سر کو بدن سے جدا کر دیتی ہے اور بد بخت بلعم کو چونکہ اس فلاسفی کی خبر نہ تھی کہ گو خدا تعالیٰ کسی سے مکالمہ کرے اور اس کو اپنا پیارا اور برگزیدہ ٹھہرادے مگر وہ جو فضل کے پانی میں اس سے بڑھ کر ہے جب اس شخص سے اس کا مقابلہ ہو گا تو بے شک یہ ہلاک ہو جائے گا اور اس وقت کوئی الہام کا م نہیں دے گا اور نہ مستجاب الدعوات ہونا کچھ مدد دے گا۔ اور یہ تو ایک بلعم تھا مگر میں جانتا ہوں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں اسی طرح ہزاروں بلغم ہلاک ہوئے جیسا کہ یہودیوں کے